Al-Risala · September 1978 · page 23

سیاست جب نشہ بن جائے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳

سیاست جب نشہ بن جائے

مکھن بنانے والی کوئی کمپنی اگر اپنے مکھن کی پیکنگ پر لکھ دے : " یہ مکھن صحت کے لئے مضر ہے " تو اس کا مکھن کوئی بھی شخص نہیں خریدے گا۔ ایسی کمپنی چند ہی روز میں دیوالیہ ہو جائے گی۔ مگر جدید قوانین کے تحت سگریٹ کا ہر پیکٹ جو سگریٹ ساز کمپنی سے تیار ہو کر بازار میں آتا ہے، اس پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہوتا ہے: CIGARETTE SMOKING IS INJURIOUS TO HEALTH سگریٹ پینا صحت کے لئے مضر ہے، مگر اس سے سگریٹ کی خریداری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سگریٹ پینے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سگریٹ سازی کا کاروبار آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکھن ایک مفید غذا ہے۔ اس کو آدمی صحت اور طاقت حاصل کرنے کے لئے کھاتا ہے۔ اس لئے جب کسی مکھن کی یہ حیثیت مشتبہ ہو جائے تو وہ فوراً اس کو چھوڑ دے گا۔ مگر سگریٹ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے ساتھ غذائی افادیت کا کوئی تصور وابستہ نہیں۔ سگریٹ صرف نشہ حاصل کرنے کے لئے پیا جاتا ہے اور نشہ کا فائدہ سگریٹ میں اس وقت بھی پوری طرح موجود ہوتا ہے جب کہ صحت کے اعتبار سے اس کا مضر ہونا ثابت ہو گیا ہو۔ جب اصل مقصد حاصل ہورہا ہو تو کوئی شخص کیوں اسے چھوڑے۔

اسی طرح اگر کچھ لوگوں کو "سیاست" کا چسکا لگ جائے تو خواہ کتنے ہی یقینی دلائل سے اس کا بے حقیقت ہونا ثابت کر دیا جائے بہر حال لوگ اس سے چمٹے رہیں گے۔ وہ کسی بھی طرح اس کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ دلائل کی کوئی بھی مقدار سیاست سے نشہ کی کیفیت چھین نہیں سکتی۔ بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ سیاست تمام نشہ آور چیزوں میں سب سے زیادہ نشہ کی چیز ہے۔ سگریٹ اور بھنگ کا نشہ اتر سکتا ہے۔ مگر سیاست کا نشہ کبھی آدمی سے نہیں اترتا۔ آپ دلائل کا انبار جمع کر دیجئے۔ تجربات اس کے بے فائد ہونے کا عملی ثبوت دیتے چلے جائیں۔ مگر جن لوگوں کو سیاست کا نشہ لگ گیا ہے۔ تخیلات کی دنیا میں بدستور وہ اپنا سیاسی رومان جاری رکھیں گے ۔ موت کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے جو ان کے اور سیاست کے درمیان تفریق کرا سکے، اور اگر اتفاق سے سیاست میں کسی نے ملی ترقی کا راز دریافت کر لیا ہو یا کسی کو ایسی قرآنی ڈکشنری مل گئی ہو جس میں دین کے معنی سیاست لکھے ہوئے ہوں تو ایسے لوگوں کو سیاسی مشغلہ سے ہٹانا شاید اس وقت سے پہلے ممکن نہیں جب کہ خدا خود ظاہر ہو کر کہہ دے کہ یہ وہ دین نہیں جو مجھ کو مطلوب تھا۔ یہ تو وہ دین ہے جو تم نے خود سے گھڑ لیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page