Al-Risala · September 1978 · page 25

سیاست جب نشہ بن جائے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵

گویا زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو" خدا کے یہاں بھلا اسی شان دار چیزیں کہاں ملیں گی ، پھر کیوں نہ ایسی دنیا میں جو کچھ ملے اس کو حاصل کر لیا جائے ۔ "

سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں مذہبی لوگوں کا حال بھی وہی ہے جو دوسرے اہل دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو دنیوی امکانات ان کے لئے کھلے ہیں ان کی طرف دوڑ بھاگ میں وہ دوسروں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہیں۔ عہدوں اور مناصب کی دھوم، صدارت و نظامت کے اعزازات، جلسوں اور جلوسوں کی نمائش ، بین الاقوامی کانفرنسوں کے لئے پروانہ، ایڈرس اور استقبال کے تماشے، اخبارات کی سرخیوں میں چھپنا اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کا شوق ان کو بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی عام دنیا دار کو ہو سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص آخرت پر تقریر کر رہا ہے اس کو بھی آخرت کا یقین نہیں، اگر ہے تو بہت کم۔ ایک کامیاب ترین انسان جب موت کے دروازہ پر پہنچتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ دروازہ کے دوسری طرف اس کے لئے مایوسی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوورڈ ہیوز امریکہ کا ایک ممتاز ترین کی یہ دہشت ناک تصویر اس کیفیت کو مجسم کر رہی ہے جو ایک آدمی ارب پتی تھا۔ اپریل ۱۹۷۶ء میں ایک ہوائی سفر کے دوران کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکا ہو اس پر دل کا حملہ ہوا۔ اس کے ہوائی جہاز کو فوراً ہاؤسٹن اس کے پیچھے وہ زندگی ہو چکی وہ چھوڑ چکا اور آگے وہ زندگی ہو میں اتار گیا ۔ مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے وہ ختم ہو چکا تھا۔ جس میں اب وہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائے گا۔ اپنے قانون داں باپ سے اس کو ایک ملین ڈالر بطور وراثت ملے تھے۔ مگر اس نے اپنی غیر معمولی تجارتی صلاحیت سے اپنے سرمایہ کو ۴۰۰،۲۰ کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ بڑھا لیا۔ اس کے ہوائی جہاز کا عملہ جو اس کے ساتھ شریک سفر تھا اس نے اس کے آخری لمحات کے بارے میں جو چشم دید تا ثرات بیان کئے اس کی بنیاد پر مشہور امریکی آرٹسٹ شرل سالومن نے اس کا خاکہ تیار کیا ہے۔ اس خاکے میں اس کے سفر حیات کے آخری لمحات کو مصور کیا گیا ہے ۔ امریکہ کا کامیاب ترین تاجر اس خاکہ میں وحشت ، مایوسی بے چارگی ناکامی اور بے یقینی کا مجسمہ نظر آتا ہے۔ امریکی تاجر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page