سیاست جب نشہ بن جائے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷
جو اپنے کو جہنم کے دروازہ پر کھڑا ہوا پائے وہی جنت میں داخل ہو گا۔ جو چپ رہنے لگے اس کو بولنا آگیا۔
جو بے عزتی پر راضی ہو جائے اس نے اپنی عزت کو بچا لیا۔ جو خاموش آوازوں کو سننے لگے وہی کان والا ہے۔ جس کو اپنی برائیاں دکھائی دینے لگیں وہی قابل تعریف ہے۔ جو اپنے سے آغاز کرے وہی دوسروں تک پہنچے گا۔ جو اپنی غلطی کو مان لے وہی صحیح راستہ پر ہے جس کی نظر میں تمام چیزیں بے لذت ہو جائیں اس نے لذت کا راز پالیا۔ جو اپنے کو بے علم جانے وہی علم والا ہے۔ وہی آدمی باشعور ہے جس نے اپنے لاشعور کو جان لیا۔ جو کمزوروں سے ڈرے وہی طاقت ور کی پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ جو دوسروں کو دیتا ہے اسی نے اپنے آپ پر خرچ کیا۔ جو اپنے معاملات میں نادان ہو جائے وہی ملت کے معاملات میں ہوشیار ثابت ہوگا ۔ جس کو اپنے منافق ہونے کا اندیشہ ہو وہی ایمان والا ہے۔ جو کھونے والا ہے اسی نے در اصل پایا۔
جس کو ہارنا آجائے اس کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues