Al-Risala · September 1978 · page 32

جب خیمے اکھاڑ دیئے جائیں گے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲

قریب ہے کہ کسی بھی صبح وشام وہ انسانوں کے اوپر پھٹ پڑے انڈے کے اندر زندہ بچہ کا وجود یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک روز اس کے اوپر کا خول ٹوٹ جائے اور جیتا جاگتا بچہ خول کے باہر آجائے۔ اسی قسم کی نسبت موجودہ دنیا کو آخرت سے ہے۔ آخرت موجودہ دنیا کے اندر سے ابلی پڑ رہی ہے۔ کائنات کے احوال پر گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو دل پکار اٹھے گا کہ بے شک آخرت آنے والی ہے (آل عمران ۱۹۱) بلکہ وہ آپ کو بالکل آتی ہوئی نظر آئے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ حاملہ کے پیٹ میں جس طرح اس کا حمل باہر آنے کے لئے بیتاب ہو، اسی طرح وہ کائنات کے اندر بو جھل ہورہی ہے اور قریب ہے کہ کسی بھی صبح و شام وہ انسانوں کے اوپر پھٹ پڑے :

"یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے قیامت۔ کہواس کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ وہی اپنے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ وہ زمین و آسمان میں بھاری ہورہی ہے۔ وہ بالکل اچانک تم پر آجائے گی (اعراف 187) وہ دن آنے والا ہے جب تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کئے جائیں گے کہ ایک رب العالمین کے سوا سب کی آوازیں پست ہو چکی ہوں گی ۔ اس دن صرف حق بات میں وزن ہوگا اور اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو دیں گی۔ یہ فیصلہ کا دن ہو گا۔ ہمارے اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ آج جو لمحات ہم گزار رہے ہیں ۔ اس کے ہر لمحہ کا انجام ہم کو آئندہ کروڑوں سال تک بھگتنا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اس کے لئے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی عذاب۔ ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب تر کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لئے مقدر ہے۔ ہم کو زندگی کے صرف چند دن حاصل ہیں۔ ایسے چند دن جن کا انجام لامحدود مدت تک بھگتنا پڑے گا جس کا آرام بے حد خوش گوار ہے اور جس کی تکلیف بے حد درد ناک ۔ ہر بار جب سورج غروب ہوتا ہے تو ہماری عمر میں ایک دن اور کم کر دیتا ہے، اس عمر میں جس کے سوا آنے والے ہولناک دن کی تیاری کا اور کوئی موقع نہیں۔ ہماری زندگی کی مثال برف بیچنے والے دکان دار کی ہے جس کا اثاثہ ہر لمحہ پگھل کر کم ہوتا جارہا ہو۔ اور جس کی کامیابی کی صورت صرف یہ ہو کہ وہ وقت گزرنے سے پہلے اپنا سامان بیچ ڈالے۔ ورنہ آخر میں اس کے پاس کچھ نہ ہوگا اور دکان سے اس کو خالی ہاتھ اٹھ کر جانا پڑے گا۔ پھر قبل اس کے کی موت آکر ہم کو اس عالم سے جدا کر دے جہاں صرف کرنا ہے اور اس عالم میں پہنچا دے جہاں کرنا نہیں بلکہ صرف پانا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کا صحیح مصرف سوچ لیں۔ ہم سب کو ایک روز مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ کیسے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو خدا اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے۔ کیوں کہ وہی لوگ اس دن عزت والے ہوں گے۔ کیسے بدبخت ہیں وہ لوگ جن کو خدا خودار کر دے۔ کیوں کہ اس کے بعد ان کے لئے ذلت اور حسرت کی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page