Al-Risala · September 1978 · page 41

لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱

لوگوں کو حقیر نہ سمجھو، ورنہ تم لوگوں کے خالق کی نظر میں حقیر ہو جاؤ گے۔

جو ارباب جاہ کی قربت ڈھونڈتا ہے، وہ خدا کی قربت سے دور ہوگیا۔

کوئی شخص تم کو پتھر مارے تو اس سے لڑنے میں وقت ضائع مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو اتنا اونچا اٹھاؤ کہ پتھر مارنے والے کا پتھر وہاں تک پہنچ ہی نہ سکے۔

جو لوگ دوسروں کی شکایت کرتے ہیں وہ صرف اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ زندگی کی دوڑ میں وہ دوسروں سے پیچھے ہوگئے۔

جب خداکے دین کو دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جائے اسلام کا مطلب یہ ہے کہ زندگی خدا اور آخرت کی یاد میں ڈھل جائے یہاں بندہ اپنے رب سے روحانی سطح پر ملاقات کرتا ہے۔ مگر جب اسلام کے ماننے والوں کو زوال ہوتا ہے تو اسلام کی روح غائب ہو جاتی ہے اور صرف اس کے دنیوی پہلو باقی رہ جاتے ہیں، اسلام اپنی سطح سے اتر کر ماننے والوں کی سطح پر آجاتا ہے ــــ نظر نہ آنے والے خدا سے خوف ومحبت کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے، البتہ نظر آنے والے خداؤں ( احبار و رہبان ) کی تقدیس و تمہید زوروں پر شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کے لئے تنہائیوں میں رونا اور خاموشیوں میں اس سے گڑگڑانا باقی نہیں رہتا، البتہ لاؤڈ اسپیکر کے اوپر قرآن واسلام کے ہنگامے خوب ترقی کرتے ہیں۔ نماز لوگوں کے دلوں کو روشن نہیں کرتی، البتہ مسجدوں کی روشنیاں پورے شباب پر پہنچ جاتی ہیں۔ روزہ سے صبر اور پرہیزگاری نکل جاتی ہے البتہ افطار و سحر کی دھوم خوب بڑھ جاتی ہے۔ عید میں شکر اور سجدہ کی روح نہیں ہوتی، البتہ کپڑے اور میلے کے تماشے خوب رونق پکڑتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے دین کو اپنی دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جاتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page