Al-Risala · September 1978 · page 44

جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴

جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے

اہلِ ایمان کی تعریف قرآن میں یہ کی گئی ہے کہ جب ان کے سامنے خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں (انفال۔ ۲) اور جب ان کے سامنے خدا کا کوئی حکم بیان کیا جاتا ہے تو فوراً اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں خواہ وہ ان کی مرضی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ (نساء۔ ۶۵)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ غلام ہیں۔ وہ میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ اس کا وجہ سے میں ان کو برا بھلا کہتا ہوں اور مارتا ہوں۔ پھر ان کے معاملہ میں میرا حال کیا ہوگا۔ آپ نے جواب دیا: جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کی خیانت اور ان کی نافرمانی کا شمار کیا جائے گا۔ پس اگر تمہاری سزا ان کے جرم کے مطابق ہوگی تو معاً برابر برابر ہو جائے گا اور اگر تمہاری سزا ان کے جرم سے زیادہ ہوگی تو ان کو اجازت دی جائے گی کہ اس کے بدلہ تم سے بدلہ لیں۔ یہ سن کر وہ شخص چیخ پڑا اور رونے لگا۔ اور اس کے بعد کہا: یا رسول الله، ما اجد لی ولهؤلاء خيرا من مفارقتهم، اشهدك انهم كلهم احرار (احمد، ترمذی) اے خدا کے رسول، میرے اور ان کے درمیان جدائی سے بہتر کوئی صورت نہیں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ نہ سب آج سے آزاد ہیں۔

مومن کون ہے۔ مومن دراصل وہ ہے جو اس واقعہ کو اپنی آنکھ سے دیکھ لے کہ اسرافیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب خدا کا حکم ہو اور پھونک مار کر سارے عالم کو تہ و بالا کر دیں۔ کافر اور مومن کا فرق، باعتبار حقیقت، اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ کافر دنیا کی سطح پر جیتا ہے اور مومن آخرت کی سطح پر۔ ایک۔ ظاہر حیات میں گم رہتا ہے۔

دوسرا، آخر حیات میں اپنے لئے زندگی کا راز پا لیتا ہے۔

يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ (روم-۷)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1978 All issues

Printed page