مغرب
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۵
بیچ میں ایک نماز ہے۔ رات کی دو نمازوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ دن کی دو نمازوں سے مراد فجر اور ظہر اور ربیع کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس طرح کل پانچ نمازیں ہو جاتی ہیں۔ ملاحظہ ہو نقشہ ذیل: دن کی دو نمازیں صلوة وسطی رات کی دو نمازیں فجر ظہر عصر مغرب عشاء پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو اس نماز کی جو نمازوں کے بیچ میں ہے (قرآن) پھر یہ بات بھی قرآن میں بالکل واضح ہے کہ نماز اہل ایمان پر معین اوقات کے ساتھ فرض کی گئی ہے (ان الصلوة کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً، نساء ۱۰۳) اس سلسلے میں جو پانچ اوقات حدیث سے معلوم ہوتے ہیں، ٹھیک وہی اوقات خود قرآن سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: ۱- سورج نکلنے سے پہلے (قبل طلوع الشمس ، طہ ۱۳۰)
فجر ۲- دوپہر ڈھلنے کے وقت (لدلوک الشمس ، بنی اسرائیل ۷۸)
ظہر ۳- غروب آفتاب سے پہلے (وقبل غروبها ، طہ ۱۳۰)
عصر ۴- جب شام ہوتی ہے (حين تمسون ، روم ۱۷)
مغرب
۵- جب رات تاریک ہو جائے (الی غسق اللیل ، بنی اسرائیل (۷۸)
عشاء
اس طرح قرآن سے پانچ نمازیں مع تعیین اوقات ثابت ہو جاتی ہیں۔
اوپر جو باتیں عرض کی گئیں، وہ ایسے شخص کے لئے بالکل کافی ہیں جو حقیقتاً بات سمجھنا چاہتا ہو اور اس بات کی تمنار کھتا ہو کہ جب وہ اللہ کے یہاں پہنچے تو اللہ اس سے راضی ہو جائے۔ مگر جو لوگ بحث و جدال کی سطح پر ہیں ان کو کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اسی وقت چپ ہوں گے جب کہ اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے اور ان سے بولنے کی مہلت چھین لے۔
نماز کا اصل مقصد اللہ کی یاد ہے۔ مگر اس کا نظام اتنی حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ زندگی کے تمام تقاضے نہایت جامعیت کے ساتھ اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ نماز اتحاد اور اجتماعیت کا سبق ہے ۔ وہ بندے کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ وہ ہمارے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ وہ ہمارے اوقات کو منظم کرتی ہے۔ وہ ہلکی جسمانی ورزش کا فائدہ دیتی ہے۔ وہ بار بار ہماری صفائی کرتی رہتی ہے، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز ہر قسم کی روحانی اور جسمانی برکتوں کا مجموعہ ہے۔ مسلمان اگر حقیقی شعور کے ساتھ نماز پر قائم ہو جائیں تو ان کی دنیا بدل جائے اور وہی ان کے تمام مسائل کے حل کے لئے کافی ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues