ادارہ الرسالہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸
ایک سفر
مراد آباد، دہلی سے ۱۶۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک صنعتی شہر ہے۔ ۵ اکتوبر ۱۹۷۸ء کی شام کو یہاں جانے کا اتفاق ہوا، ۷ اکتوبر کی شام کو دہلی واپسی ہوئی ۔ مراد آباد کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے جس میں مسلمان ۵۵ فی صد ہیں۔ یہاں بے روزگاری کا وجود نہیں۔ ہندوستان میں اس قسم کے متعدد شہر ہیں جہاں مسلمان نہ صرف تعداد میں کافی ہیں بلکہ معاشی حیثیت سے بھی بہتر حالت میں ہیں۔ اگر وہ سمجھ داری سے کام تو ان مقامات پر وہ ایک قسم کی ” شہری ریاست “ قائم کر سکتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہونے کا استعمال ان کے نزدیک صرف یہ ہے کہ زیادہ بڑے پیمانہ پر اس کی بربادی کا مظاہرہ کریں ۔ بے معنی احساس برتری، سہل انگاری، آپس کے اختلافات، اسراف، مواقع کو احمقانہ طور پر برباد کرنا، لایعنی بحثوں اور مناظروں میں مشغول رہنا، ایسے مقامات پر ان کی زندگی بس اسی قسم کے مشاغل میں گزرتی ہے۔ شادیوں میں بے پناہ دولت برباد کریں گے۔ مگر تعلیمی اداروں کو ترقی دینے سے انھیں کوئی دل چسپی نہ ہوگی۔
مراد آباد اور دوسرے شہروں کے سفر کے بعد راقم الحروف کو ایک تجربہ یہ ہوا کہ ہر جگہ لوگوں نے کچھ خاص مسئلے گھڑ لئے ہیں اور بس اسی کے بحث مباحثہ میں مشغول رہتے ہیں۔ کہیں مذہبی اور اعتقادی جھگڑے ہیں اور کہیں سے ایسی اور نظریاتی جھگڑے ۔ ساری ذہنی طاقت بس نہیں جھگڑوں میں برباد ہو رہی ہے ۔ ان جھگڑوں کے باقی رہنے کی دو بڑی وجہیں ہیں ۔ ایک یہ کہ ان کے درمیان کثرت سیاسی تحریکیں تھیں جن کا مزاج سیاسی تھا۔ دوسرا دینی تحریکیں وہ ہیں جو اگر چہ غیر سیاسی ہیں مگر گہرائی کے ساتھ اصلاح کی کوشش نہیں کرتیں ، وہ ان کو ایسے دینی نسخے فراہم کر دیتی ہیں جس میں انہیں اپنی اصل زندگی کو بدلنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کیوں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ان کو یا سلائی کی ٹرتیہ سے بھی زیادہ سستی قیمت پر جنت مل رہی ہے۔
6 اکتوبر کو وارث منزل (طوليه اسٹریٹ) میں ایک اجتماع ہوا جس میں شہر کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ حضرات شریک ہوئے۔ میں نے اپنی تقریر میں دو باتوں پر زور دیا، ایک، دین کو قرآن وسنت سے اخذ کرنا، دوسرا، وقت کے حالات کا گہرا جائزہ لے کر اپنے عمل کی منصوبہ ملدی کرنا۔ اس اجتماع کے علاوہ قیام گاہ پر تقریباً ہر وقت لوگ آتے رہے اور ان سے دینی موضوعات پر گفتگو جاری رہی۔ میں نے خصوصیت سے آخرت پسندانہ طرز فکر پر زور دیا۔ ایک صاحب نے آخر میں فرمایا: ” آپ آخرت کی بات کرتے ہیں، یہاں تو لوگوں کو اس کا یقین بھی نہیں کہ کل انھیں مرنا ہے “ تاہم مراد آباد میں کچھ ایسے درد مند مسلمان بھی ملے جو صورت حال کا واقعی احساس رکھتے ہیں اور اگر انھوں نے وقت کے فتنوں سے بچ کر اپنی صلاحیت کو تعمیری انداز پر لگانے کی کوشش کی تو ان شاء اللہ مستقبل قریب میں مفید نتائج برآمد ہوں گے ۔ الرساله مراد آباد میں ایک سو سے زیادہ تعداد میں جا رہا ہے۔ ایک شخص نے کہا: فلاں شمارہ میں نے پڑھا تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور رات بھر نیند نہیں آئی۔ الرساله میں کچھ لوگوں کو ضلالت نظر آرہی ہے اور کچھ لوگوں کو اس سے ہدایت بن رہی ہے، یہ بات بھی کیسی عجیب ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues