وہ یاد دلاتے ہی واپس دوڑ پڑے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴
تین ہزار درہم دیئے۔ انھوں نے کہا: "اسامہ بن زید کو آپ نے چار ہزار درہم دیئے اور میرے لئے تین ہزار درہم مقرر کئے، ان کو یا ان کے باپ کو کون سی فضیلت حاصل ہے جو مجھ کو نہیں۔ عمر ی اللہ عنہ نے فایا: ان کے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمھار سے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے۔ (ان اباہ کان احب الی رسول اللہ صلی اللہ وسلم من ابیک و ھو کان احب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منك، بزار) ایک روایت کے مطابق عمر ی اللہ عنہ نے آخر عمر میں فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے عملاً زیادہ درست تھی (فرایہ خیر رائی، بزار)
وہ یاد دلاتے ہی واپس دوڑ پڑے
حنین کی جنگ میں ابتداً مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ وہ میدان مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ عباس رضی اللہ عنہ بلند آواز تھے۔ ان سے آپ نے کہا: اے چچا لوگوں کو پکاریئے ۔ انھوں نے بلند آواز سے پکارنا شروع کیا: یا اصحاب السمرۃ (اے کیکر کے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو، کہاں جا رہے ہو) حضرت عباس کہتے ہیں: خدا کی قسم جب انھوں نے میری آواز سنی تو انھوں نے کہا یا لبیکاہ، یا لبیکاہ ۔ ہم آئے، ہم آئے۔ اور رسول اللہ کی طرف اس طرح دوڑ پڑے جیسے گائے اپنے بچھڑوں کی طرف دوڑتی ہے۔ (رواہ مسلم عن ابن وہب)
قرآن سامنے آتے ہی رک جانا
عبداللہ بن عباس رم کہتے ہیں عیینہ بن حصن مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے حر بن قیس کے یہاں ٹھہرے ۔ حر بن قیس ان لوگوں میں تھے جن کو عمر رضی اللہ عنہ کی قربت حاصل تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس اور ان کے مشوروں میں شریک ہونے والے قرآن کے علماء ہوتے تھے خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان ۔ عیینہ نے حر بن قیس سے کہا: اے میرے بھتیجے ! تم کو امیر المؤمنین کے یہاں رتبہ حاصل ہے، میرے لئے امیر المؤمنین سے ملنے کی اجازت حاصل کرو۔ انھوں نے اجازت مانگی اور عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ عیینہ آئے اور کہا : اے خطاب کے لڑکے ! تم ہم کو نہ مال دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو (ھی یا ابن الخطاب فواللہ ما تعطينا الجزل ولا تحکم فینا بالعدل) عمر رضی اللہ عنہ سن کر غصہ میں آگئے ۔ قریب تھا کہ ان پر ٹوٹ پڑیں۔ اتنے میں حر بن قیس نے کہا: اے امیر المومنین ! اللہ نے اپنے رسول سے کہا ہے " معافی کا طریقہ اختیار کرو، نیکی کا حکم کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو (اعراف ۱۹۹) اور یہ شخص یقیناً جاہل ہے۔ راوی کہتے ہیں: والله ما جاوزھا عمر حين تلاھا وكان وقافا عند كتاب الله (بخاری) خدا کی قسم قرآن کی آیت سننے کے بعد عمر رض نے ذرا بھی تجاوز نہیں کیا۔ وہ قرآن کے سامنے بہت زیادہ رک جانے والے تھے۔
ضد اور عناد ان کے لئے سچائی کو پہچاننے میں رکاوٹ نہ بن سکا ہجرت سے چند سال پہلے مدینہ میں اسلامی دعوت کا آغاز ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر رض کو مدینہ بھیجا۔ وہ وہاں پہنچ کر خاموشی سے لوگوں کے درمیان اسلام کی تبلیغ کرتے اور قرآن پڑھ کر سناتے۔ سعد بن معاذ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues