مجلس میں گفتگو کے آداب
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱
مجلس میں گفتگو کے آداب
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے بارے میں فرماتے ہیں۔ آپ جب گفتگو کرتے تو مجلس میں بیٹھنے والے اس طرح سر جھکا لیتے گویا ان کے سروں کے اوپر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ جب آپ اپنی بات کہہ کر چپ ہو جاتے تب دوسرے لوگ بولتے۔ آپ کے پاس لوگ کسی بات پر نزاع نہ کرتے۔ ایک شخص بولتا تو دوسرے لوگ چپ ہو کر سنتے یہاں تک کہ بولنے و(لا اپنی بات کو پورا کر لے۔ آپ کی مجلس میں ہر شخص کی بات یکساں توجہ سے سنی جاتی الا یتنازعون عنوہ الحدیث۔ ومن تكلم عندہ انصتوا لہ حتی یفرغ۔ حدیثہم عندہ حدیث اولہم، الشمائل للترمذی)
جواب میں الزام تراشی نہیں
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب ابتدائی زمانہ میں آپ کے سرپرست تھے۔ بعثت کے دسویں سال ابو طالب کا انتقال ہو گیا تو مکہ والوں کو موقع مل گیا۔ انھوں نے آپ کو برادری سے خارج کر دیا۔ اب ضروری تھا کہ آپ اپنے لئے کوئی نیا حمایتی تلاش کریں۔ آپ اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کو لے کر عکاظ کے میلے میں گئے۔ وہاں مختلف قبائل کے خیموں میں جا کر ان سے کہا کہ مجھے اپنی حمایت میں لے لو تا کہ میں اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھ سکوں۔ مگر قریش مکہ کے ڈر سے کوئی تیار نہ ہوا۔ اگلے سال دوبارہ آپ عرب کے میلوں میں حمایتی کی تلاش میں نکلے۔ بالآخر یثرب (مدینہ) کے قبائل اوس و خزرج کے چھ آدمیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کو اسلام کا پیغام دیا۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ پر جو وحی آتی ہے وہ کیا ہے۔ آپ نے ان کو سورہ ابراہیم کی آیتیں سنائیں۔ اس کو سن کر ان کا دل نرم ہو گیا۔ انھوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ یہ رات کا وقت تھا۔ آپ ان لوگوں سے باتیں کر رہے تھے کہ عباس بن عبد المطلب ادھر سے گزرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پہچان کر وہ وہاں آ گئے۔ انھوں نے پوچھا: اے میرے بھتیجے یہ کون لوگ تمھارے پاس ہیں؟ آپ نے جواب دیا: اے میرے چچا یہ یثرب کے رہنے والے ہیں۔ میں نے ان کو دہ دعوت پیش کی جو اس سے پہلے دوسرے قبائل کے سامنے پیش کی تھی، انھوں نے مان لیا اور میری تصدیق کی۔ وہ اس کے لئے تیار ہیں کہ مجھ کو اپنے یہاں لے جائیں۔ عباس بن عبد المطلب سواری سے اتر پڑے ۔ انھوں نے اپنے اونٹ کو باندھ دیا اور کہا: اے اوس اور خزرج کی جماعت! یہ میرا بھتیجا ہے اور وہ مجھ کو تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر تم نے اس کی تصدیق کی ہے اور اس پر ایمان لائے ہو اور اس کو اپنے یہاں لے جانا چاہتے ہو تو میں تم لوگوں سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں تاکہ میرا دل مطمئن رہے۔ نہ یہ کہ تم اس کو رسوا نہیں کرو گے اور اس کو دھوکا نہیں دو گے۔ کیوں کہ تمھارے پڑوس میں یہودی ہیں اور یہود اس کے دشمن ہیں۔ اور میں اپنے بھتیجے کو ان کے مکر سے محفوظ نہیں سمجھتا۔ اسعد بن زرارہ، جو یثرب والوں کے سردار تھے، ان کو عباس بن عبد المطلب کا یہ قول برا معلوم ہوا۔ کیوں کہ انھوں نے ان کے کردار پر شک و شبہ کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے عباس بن عبدالمطلب کا جواب دینے کی اجازت دیجئے ۔ آپ نے فرمایا: تم جواب دو، مگر جواب میں الزام کا طریقہ نہ اختیار کرنا (اجیبوه غیر متهمين، ابو نعیم، دلائل النبوة ص۱)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues