Al-Risala · March 1979 · page 42

یہ بے حسی کیوں

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲

کے ماسوا اور بہت سی ضرورتوں کا عادی بنا لیا ہے تو ان کو لینے، موئے آپ زمین پر نہیں چل سکتے۔ جب تک یہ لوازم آپ کے گرد مہیا ہوں آپ متحرک نظر آئیں گے۔ مگر جہاں یہ لوازم رخصت ہوئے، آپ اسی طرح اپنے آپ کو بے بس پائیں گے جیسے مغلیہ سلطنت کے آخری شہزادے پالکی کی سواری کا عادی ہونے کی وجہ سے فدر کے وقت بھاگ نہیں سکے اور ان کے دشمنوں نے محل میں گھس کر ان کے بستروں پر انہیں قتل کیا۔

مگر لوازم حیات کو مختصر کرنے کا ایک اور فائوہ ہے جو اسلامی اعتبار سے اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ یہ کہ اس طرح کے لوازم میں جتنی کمی ہوگی اسی کے بقدر آپ کے اندر زیادہ سونا درا اخلاص پیدا ہوگا۔ اگر آپ کو ایک ہزار میل دور سے اگر یہاں تقریر کرنی ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے لئے اسپیشل سیلون میں سفر کرنا ضروری ہے تاکہ جب میں اسٹیشن پر اتروں تو بالکل تازہ دم رہوں اور جلسہ گاہ پہنچ کر اپنے موضوع پر اچھی طرح بول سکوں، بیشک آپ کے لئے ایسا کرنا جائز ہے۔ کسی کو جرات نہیں کہ اس کے خلاف فتویٰ دے سکے۔ بلکہ بہت سے ظاہرا بینوں کو آپ کا زور خطابت اس دلیل کی مقبولیت ماننے پر یہاں تک مجبور کر سکتا ہے کہ وہ آپ کے لئے مخصوص سیلون میں سفر کرنا ہی افضل سمجھے۔ لگیں کیونکہ اس کے بغیر اتنی شان دار تقریر وجود میں نہیں آسکتی تھی ۔ مگر میں کہوں گا کہ خدا کو شان دار تقریر مطلوب نہیں ہے۔ اس کو تو آپ کے دل کے ٹکڑے درکار ہیں۔ اور وہ تقریر جس میں آپ کے دل کے ٹکڑے الفاظ بن کر نکلیں، جو دوسروں کو متاثر کرنے سے پہلے خود آپ کو رلا دے، جو تقریر نہ ہو بلکہ درد اور تڑپ کا ایک مجسم اظہار ہو دہ تو اسی وقت ہوتا ہے جب کہ آپ بے آرامی سے سفر کر کے یہاں پہنچے ہوں جس میں یہاں تک اپنے آپ کو لانے میں اپنے مشقت اٹھائی ہے جو آپ کے لئے محض سفر نہ ہو بلکہ خدا کی طرف بڑھنے کا ایک مجاہدہ ہو۔ ایسی ہی ایک زبان سے کلمات درد نکل سکتے ہیں۔ درد مند کلام، خدا کا ایک الہام ہے جو براہ راست عالم الغیب والشہادہ کی طرف سے آپ کے اوپر القا کیا جاتا ہے۔ اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا الہام ایک ”قولِ ثقیل “ ہے جو کسی ایسے قلب ہی پر اتر سکتا ہے جو ” وطا شديد“ کے مرحلے سے گزر چکا ہو (سورہ مزمل)

امام احمد اور امام ترمذی کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار اپنے رسول کو سونے کی عظیم ترین کان دینے کی پیش کش کی، رسولؐ نے جواب دیا، خدایا نہیں، بلکہ مجھے اس طرح رکھئے کہ کسی روز کھاؤں اور کسی روز بھوکا رہوں تاکہ جب میں کھاؤں تو آپ کا شکر ادا کروں اور جب بھوک ستائے تو آپ کے سامنے گریہ و زاری کروں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی حالات کے بغیر اپنے اندر کیفیات پیدا نہیں کر سکتا۔ جو حالات سے خالی ہو جائے وہ کیفیات سے بھی خالی ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سختی اور مشقت کے لمحات اپنے اندر دو طرفہ فائدہ رکھتے ہیں۔ ایک طرف ان سے وہ ” درد “ حاصل ہوتا ہے جو دل کی زندگی ہے، جو آپ کو احساس حیات سے آشنا کرتا ہے ۔ جو انسان کی اندرونی صلاحیتوں کو بیدار کرنے والا ہے۔ دوسری طرف مشقت کے لمحات ہی آپ کی راحت کے لمحات کو اسلامی رنگ دیتے ہیں۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ جب وہ ایسی کوئی چیز دیکھے تو اس کا دل شکر کے جذبے سے لبریز ہو جائے ۔ جو درد سے خالی ہے وہ زندگی سے خالی ہے، اور جو زندگی سے محروم ہو وہ کیسے کوئی بات سنے گا اور کیسے کوئی بات قبول کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page