Al-Risala · April 1979 · page 33

آخرت کی دنیا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳

انسانوں کی طرح اپنے کو ایک انسان سمجھے اور اقتدار کو لوگوں کی حقیقی خدمت میں لگائے، کیا اس دنیا میں اس کو اس عمل کا بدلہ دیا جاسکتا ہے۔ ایک شخص اپنی محنت سے دولت کمائے اور اس دولت کو غریبوں اور محتاجوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں صرف کر دے کیا اس کو اس عمل کا انعام دینا ممکن ہے۔ ایک شخص علم میں کمال پیدا کرتا ہے اور اس علم کو انسانیت کی تعمیر میں لگا دیتا ہے، کیا اس کو اس خدمت کا معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک شخص کے ایک چھوٹے سے نیک عمل کا انعام دنیا بھی اس دنیا کے محدود حالات میں ممکن نہیں جس طرح ایک بُرا عمل بے شمار طریقوں سے انسان کے لئے مصیبت بنتا ہے۔ اسی طرح ایک نیک عمل بے شمار طریقوں سے انسانیت کے لئے خیرو فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس کے اعداد و شمار جمع کر سکے اور اس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے۔ اسی کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے۔ اس دنیا میں آدمی بیماری، بڑھاپا، موت اور اس طرح کے دوسرے ناموافق قوانین سے بندھا ہوا ہے۔ بالفرض کسی کے حسن عمل کا اندازہ کر کے اس کے لئے اس کے کارناموں کے مطابق ایک "جنت" بنا دی جائے، جب بھی وہ اس سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ بے شمار انسانوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں بالفرض کسی کو مسرت مل جائے، جب بھی وہ چند لمحات سے زیادہ امن کا لطف نہیں اُٹھا سکتا۔ ہر انسان اپنے لئے ایک ”جنت“ چاہتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں جنت نہیں بن سکتی۔ جنت بنانے کے لئے کوئی اور دنیا درکار ہے جو محدودیتوں اور نقائص سے پاک ہو۔ یہ صورتِ حال پکار رہی ہے کہ موجودہ دنیا نامکمل ہے اور اس دنیا کی تکمیل کے لئے ایک اور دنیا وجود میں آنی چاہئے۔

جب ہم کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ بے پناہ حد تک وسیع معلوم ہوتی ہے ۔ اس کے امکانات لا محدود ہیں۔ یہ زمین، جس پر انسان اپنی زندگی بناتا ہے، وہ عظیم کائنات کے اتھاہ امکانات کا ایک بے حد حقیر حصہ ہے۔ ہماری زمین، کائنات کا اس سے بھی زیادہ چھوٹا حصہ ہے جتنا سارے سمندروں کے کنارے پائی جانے والی ریت کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ کائنات نے اپنے اتھاہ امکانات میں سے صرف ایک حقیر جزو ہی کو زمین پر کیوں ظاہر کیا۔ آخرت کا عقیدہ اسی سوال کا جواب ہے۔ انسان کے لئے یہاں جو امکانات ہیں، ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس کا ابتدائی حصہ موجودہ دنیا میں ہم کو مل رہا ہے اور اس کا آخری اور کامل حصہ آخرت کی دنیا میں دیا جائیگا۔ آخرت کا نظریہ ان تمام بہترین آرزوؤں اور تمناؤں کو با معنی بناتا ہے جن کو ایک آدمی اپنے سینہ میں لئے ہوئے ہوتا ہے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود ان کو واقعہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اگر وہ ہر قسم کے ناموافق حالات کا مقابلہ کرتا ہوا بالفرض اپنے لئے ایک پسندیدہ زندگی بنالے تب بھی بڑھاپا اور موت اس کی ہر کامیابی کو بہت جلد بے معنی بنا دیتے ہیں۔ آخرت کا عقیدہ بتاتا ہے کہ اس کے خوابوں کی دنیا کہاں ہے اور اس کی مطلوبہ "جنت" کس سمت میں ہے جدھر اس کو دوڑ دھوپ کرنی چاہئے۔ آخرت آدمی کی منزل کو بھی بتاتی ہے اور اس کی جد و جہد کے صحیح رخ کو بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page