ہدایت کا انتظام
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷
"ہماری دنیا مکمل کیوں نہیں؟ "
آدمی اس سوال کا جواب نہیں پاسکتا جب تک وہ آخرت کی دنیا کو نہ جان لے ۱۶ سالہ نندنی اپنے وجے نگر کے مکان میں آئینہ کے سامنے کھڑی گئی۔ ۔ اسے نظر آیا کہ اس کی نازک گردن پر ایک گو مٹر ابھر رہا ہے۔ "زندگی زیادہ مکمل اور بے عیب کیوں نہیں؟ "
Why life could not have been more perfect. اس نے اپنے دل میں کہا۔ وہ ایک کامیاب رقاصہ تھی اور اپنی دو ہم پیشہ بہنوں (پدما اور جے شری) کے ساتھ ابھی ابھی کشمیر کے ایک رنگارنگ سفر سے یہ حوصلہ لے کر واپس آئی تھی کہ وہ اپنے پیشہ میں اور زیادہ توجہ لے کر اعلیٰ ترین رقاصہ بنے گی۔ اپنی بہنوں کے ساتھ اس نے ملک کے مختلف شہروں میں رقص کے ۵۰ مظاہرے کئے تھے۔ تینوں بہنیں ”وجے نگر سسٹرس" کے نام سے مشہور ہو گئی تھیں۔ تاہم کل کی تقریب میں شرکت سے اس نے معذوری ظاہر کر دی۔ بدنما گردن کے ساتھ وہ آرٹ کی محفل میں کیسے شریک ہو سکتی تھی۔ مگر خلاف امید اس کا گو مٹر بڑھتا گیا۔ گھر والوں کو پریشانی ہوئی۔ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی دوڑ شروع ہوگئی۔ بالآخر صرف یہ جاننے کے لئے کہ ان کی نندنی کینسر کے ناقابل علاج مرض میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اسپتال میں داخلہ کے نویں دن اس کی موت کا پیغام آگیا۔ بستر پر ایک بے حس و حرکت جسم پڑا ہوا تھا اور دوست اور رشتہ دار چاروں طرف اس کو گھیرے ہوئے یہ سوچا رہے تھے " وہ ہنستی ہوئی روح آخر کہاں چلی گئی۔ " یہ جولائی ۱۹۴۹ کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد نندنی کی بقیہ دو بہنوں نے مدرتیہ نندنی" کے نام سے ایک ڈانس اسکول کھولا۔ زندہ رہنے کے لئے کوئی مشغولیت ضروری تھی۔ دونوں باصلاحیت بہنوں کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کو موقع ملا کہ وہ یورپ کے شہروں لندن، جنیوا، فرینکفرٹ، برلن، ایمسٹرڈم، پیرس وغیرہ میں اپنے کمال فن کی داد دے سکیں۔ ان کو اپنے پیشہ میں اتنی کامیابی ہوئی کہ ایک اخبار نے لکھا :
The gods of India can smile when the bells on the Vijayanagar sisters tinkle ہندوستان کے دیوتا مسکرا اٹھتے ہیں جب وجے نگر بہنوں کے گھونگر بجتے ہیں۔
فروری ۱۹۵۷ء میں دونوں " رقص رانیوں" کی شادی روایتی جشن کے ساتھ ہو گئی۔
شادی کے صرف دو دن بعد جے شری کے آئینے نے بتایا کہ اس کی ٹھوڑی کے پاس ایک گو مڑا ابھر رہا ہے ۔ دواؤں اور آپریشن کے بعد گھر والوں نے سمجھا کہ ان کی جے شری اچھی ہو چکی ہے۔ مگر مقررہ جگہ پر درد کا باقی رہنا جے شری کو پریشان کئے ہوئے تھا۔ " بے وقوف نہ بنو جے شری " ، ڈاکٹر نے کہا " تمھارے جیسی جوان اور تندرست عورت کو کینسر کس طرح ہو سکتا ہے "۔ اس کے بعد گو مڑ کا ایک ٹکڑا ٹاٹا میموریل اسپتال (بمبئی) کو جانچ کے لئے بھیجا گیا۔ رپورٹ نے بتایا کہ نندنی کے بعد اب اس کی بہن کو بھی کینسر ہو چکا ہے۔ مرض ٹھوڑی اور سینہ سے گزر کر پیروں تک پہنچ گیا۔ ہر قسم کے بہترین علاج کے باوجود تکلیف بڑھتی تھی ۔ یہاں تک کہ ۱۸ مارچ ۱۹۷۴ کو جے شری کی روح بھی ایک بھیانک جسم کو بستر پر چھوڑ
CS CamScanner
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues