ہدایت کا انتظام
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹
دنیا میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو زندگی بھر ناکامی و نامرادی احساس سے دوچار رہتے ہیں۔ تاہم وہ لوگ جن کو دنیا میں بہترین مواقع ملے۔ جنہوں نے سمجھا کہ وہ اپنی خوشیوں کی بہاریں اسی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا خاتمہ بھی اکثر بدترین مایوسی کے ساتھ ہوتا ہے، حادثہ، بیماری، منصوبوں کا ناکام ہو جانا۔ اور اگر بالفرض کوئی ان ناخوش گواریوں سے بچ جائے تو آخر میں موت۔ کتنے لوگ ہیں جو "کامیابی کے ساتھ" اپنا سفر طے کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر موت عین اس وقت ان کی تمناؤں کے محل کو ڈھا دیتی ہے جب کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے دروازے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
کیا انسان کے لئے یہی مقدر رہے کہ وہ انتہائی قیمتی صلاحیتیں لے کر آئے اور بالآخر ایک بدترین ناکامی کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اگر آخرت کو حذف کر کے زندگی کو دیکھا جائے تو زندگی ایک المناک ڈرامے کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتی۔ ہم خواہ کچھ بھی کریں، موجودہ دنیا میں ہم اپنی آرزوؤں کی جنت تعمیر نہیں کر سکتے۔ ہماری محدودیتیں فیصلہ کن طور پر ہماری راہ میں حائل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف آخرت کا عقیدہ ہے جو انسانی زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔ آخرت کے عقیدہ میں ہم اپنی اس منزل کو پالیتے ہیں جس کی طرف ہم یقین کے ساتھ سفر کر سکیں، جہاں ہم اپنی کوششوں کا انجام پانے کی قطعی امید کر سکیں۔ آخرت کو نہ ماننے والے کو اپنے سامنے مایوسی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ جب کہ آخرت کو ماننے والا اپنے سامنے امیدوں کا اٹھتا مستقبل دیکھتا ہے۔ زندگی آخرت کے بغیر انتہائی بے معنی ہے مگر زندگی آخرت کے ساتھ اتنی بامعنی ہو جاتی ہے کہ انسانی زبان میں وہ الفاظ ہی نہیں جو اس کو بیان کر سکیں ہالی وڈ (امریکہ) عیش پسندوں کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنت ہے۔ ساری دنیا کے "محروم" لوگ ان کے پائے ہوئے“، لوگوں پر رشک کرتے ہیں جن کو اس جنت ارضی میں کوئی حصہ ملا ہو۔ مگر ہالی وڈ کے ایک جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بظاہر قابل رشک لوگ بے حد قابل رحم حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس جنت ارضی کے انتہائی خوش قسمت لوگ، سب کچھ پالینے کے بعد بالآخر اکتاہٹ (Boredom) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی کاریں ہوتی ہیں کہ بسا اوقات ان کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آج اپنی مختلف کاروں میں سے کس کار میں بیٹھ کر جائیں۔ تاہم ان کی بے اطمینانی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ آپس میں اپنے مکان حتیٰ کہ بیویوں کا تبادلہ کرتے ہیں تاکہ تنوع کے ذریعہ اپنی اکتاہٹ کو کم کر سکیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان لامحدود اطمینان چاہتا ہے۔ دنیا کی چیزیں اس کو صرف محدود اطمینان دیتی ہیں اس لئے وہ اس کی تسکین نہیں بنتیں۔ یہ صرف خدا ہے جو انسان کی طلب کا حقیقی اور ابدی جواب ہے۔ الا بذکر الله تطمئن القلوب سن لو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔
اللہ کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ اس ہستی میں اپنا دل لگایا جائے جو حقیقی اور ابدی ہے۔ اپنی امیدوں اور حوصلوں کو اس عالم سے وابستہ کیا جائے جو ان تمام کمیوں سے پاک ہوگی جن کی وجہ سے موجودہ دنیا ہمارے خوابوں کی تعبیر نہیں پاتی۔ جو آدمی اللہ کو پا لیتا ہے وہ گویا اپنا سب کچھ پا لیتا ہے۔ دنیا میں اگر اس کو تکلیف پہنچے تب بھی وہ مطمئن رہتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے وہ بالآخر اس کو منزل تک پہنچانے والا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues