Without being a Muslim, you can experience Namaz
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۴۵
نماز کے اندر ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانی فطرت کا عملی ظہور ہے۔ اس کی خصوصیت نے حیرت انگیز طور پر نماز کے اندر ایک دعوتی قدر پیدا کر دی ہے۔
چار برس پہلے کی بات ہے، میں اپنی کتاب “الاسلام‘‘ کی ترتیب کے دوران ایک سوال سے دوچار تھا۔ موجودہ نتائج تجربوں اور مشاہدوں کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان اگر مجھ سے پوچھے کہ کیا اسلام کی صداقت کو ہم تجرباتی طور پر جان سکتے ہیں، تو میرا جواب کیا ہوگا؟ اسی اثنا میں ۱۳ اور ۱۴ جولائی ۱۹۷۹ء کی درمیانی شب کو میں نے دہلی میں خواب دیکھا کہ میں کچھ غیر مسلموں کے ساتھ ہوں اور ان کو اسلام کی باتیں بتا رہا ہوں۔ یہ غالباً یورپ کے کچھ لوگ تھے اور مجھ سے ٹھیک یہی سوال کر رہے تھے۔ عجیب بات ہے کہ وہ سوال جس کو میں حالت بیداری میں حل نہ کر سکا تھا، اللہ تعالیٰ نے حالت خواب میں اس کو کھول دیا۔ میں نے دیکھا کہ میں اس سوال کے جواب میں ان سے پورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں: ’’ ہاں اسلام کی تجرباتی آزمائش ممکن ہے اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ نماز کا تجربہ کریں! ‘‘ مخاطب کے رعایت سے خواب کی یہ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی۔ میری نیند کھلی تو اپنا ایک جملہ مجھے لفظ بہ لفظ یاد تھا۔ میں نے ان سے کہا تھا:
Without being a Muslim, you can experience Namaz
(مسلمان نہ ہوتے ہوئے آپ نماز کا تجربہ کر سکتے ہیں) جہاں تک یاد آتا ہے، اس کے بعد ان لوگوں نے وضو کیا اور میرے ساتھ نماز پڑھی۔ نماز کا یہ تجربہ ان کے لئے اتنا مؤثر ہوا کہ اس کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاریخ میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ صرف نماز کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہند جگر خوار کے اسلام سے متاثر ہونے کا ابتدائی سبب نماز ہی تھی۔ مسلمان جب مکہ میں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے تو انھوں نے وہاں ظلم اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ مسجد میں جاکر اللہ کے سامنے اپنے عجز اور بندگی کا اقرار کیا۔ ابن منده نے روایت کی ہے کہ ہند نے اپنے شوہر ابوسفیان سے کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں۔ ابوسفیان نے کہا، تم تو ابھی کل تک اسلام کی سخت مخالف تھیں۔ انھوں نے جواب دیا ہاں، مگر رات جو منظر میں نے دیکھا اس نے میرے ذہن کو بالکل بدل دیا ہے: والله ما رأیت الله تعالى عبد حق عبادته في هذا المسجد قبل الليلة ، والله ان باتوا الا مصلين قیاماً و رکوعاً و سجوداً افریقہ کی تاریخ کا ایک مبصر لکھتا ہے:
خدا کی قسم، آج کی رات سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا اس مسجد میں خدا کی عبادت اس طرح کی گئی ہو جیسا کہ اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ خدا کی قسم یہ لوگ ساری رات نماز پڑھتے رہے۔ انھوں نے قیام اور رکوع اور سجود میں رات گزار دی۔
” وسط افریقہ میں اسلام کی اشاعت بہت بڑی حد تک سیاحوں اور عرب تاجروں کے ذریعہ ہوئی۔ ان کا سب سے بڑا معجزہ جس سے افریقہ میں اسلام کی اشاعت ہوئی، نماز تھا۔ جہاں یہ لوگ ایک امام کے پیچھے ایک صف میں کھڑے ہوئے اور ان کے چہروں سے خدا کا خوف ظاہر ہوا دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ لوگ ایک طرف اپنی ذلیل بت پرستی پر نادم ہوئے، دوسری طرف اسلامی عبادت نے ان کو اپنی طرف کھینچا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف نماز نے وسط افریقہ کی اکثر آبادی کو اسلام میں داخل کر دیا۔ ‘‘ Winwood Reade, Martyrdom of Man, P.32
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues