Al-Risala · April 1979 · page 47

Without being a Muslim, you can experience Namaz

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۴۷

میں پورا کرتی ہے۔ جب ایک شخص نماز میں مشغول ہو تو وہ حیرت انگیز طور پر محسوس کرتا ہے کہ یہ خدا اس کی امدد کی مانگ کا جواب ہے۔ نماز کے مختلف اعمال میں خود اس کے اپنے روحانی تقاضے پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہمیں۔ اس کی پوری ہستی نماز میں اس طرح شامل ہو جاتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اور حقیقت اعلیٰ دونوں ایک دوسرے میں جذب ہو گئے ہیں۔ حتی کہ جو شخص دور سے صرف نماز کا مشاہدہ کر رہا ہو، وہ بھی اس کی سادگی، اس کی عظمت اور انسانی وجود کے ساتھ اس کی مطابقت پر حیران رہ جاتا ہے۔ وہ کھلم کھلا محسوس کرنے لگتا ہے کہ معبود کی پرستش کا اس سے بہتر کوئی طریقہ ممکن نہیں۔ جہاں تک نجات آخرت کا سوال ہے آدمی کے لئے با ایمان نمازی ہونا ضروری ہے۔ مگر اس کی کیفیات کو پانے کے لئے رسمی ایمان کی ضرورت نہیں۔ ایک شخص 2 اگروہ سنجیدہ ہو، ایمان لائے بغیر بھی نماز کے مقررہ طریقے میں اپنے آپ کو مشغول کر کے نماز کی کیفیتوں اور لذتوں کا ایک حصہ پاسکتا ہے۔ نماز کا یہ پہلو اس کے اندر ایک دعوتی قدر پیدا کر دیتا ہے۔ مکہ کی تاریخ اس کی عملی تصدیق بھی کر رہی ہے۔ کیونکہ مکہ میں، اسلام کے ابتدائی دور میں، قرآن کے بعد نماز ہی سب سے زیادہ لوگوں کو دین سے قریب کرنے کا ذریعہ بنی تھی ۔

وہی قوموں میں دین کی اشاعت کے لئے موجودہ زمانے میں ہیں جو کام کرنے ہیں ان میں سے ایک کام یہ ہے کہ عالمی سطح پر مسلم نوجوانوں کا ایک حلقہ قائم کیا جائے۔ اس حلقہ کا خاص مقصد خاموش اسلامی دعوت ہو۔ اس کے افراد تمام شہروں میں ہوں اور وہ ہر دن کسی نہ کسی ایسے پارک میں جائیں جہاں غیر مسلم مرد اور عورتیں تفریح کے لئے آتے ہوں ۔ وہاں وہ ایک دو گھنٹہ اس طرح گزاریں کہ ان کی گفتگو اور اٹھنے بیٹھنے میں مکمل طور پر سنجیدگی کا اظہار ہو۔ ان کے پاس قرآن کا ترجمہ ہو یا ایسی کوئی کتاب ہو جس میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے اخلاقی اور ایمانی واقعات درج ہوں۔ وہ آپس میں بیٹھ کر اس کو پڑھیں ۔ بالقصداپنی طرف سے کسی کے اوپر تبلیغ کی کوشش نہ کریں۔ البتہ اگر کوئی شخص خود سے ان کے حلقہ درس میں بیٹھنا چاہے تو اس کو عزت کے ساتھ بٹھائیں۔ کوئی سوال کرے تو انتہائی نرمی اور سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب دیں۔ جواب معلوم نہ ہو تو صفائی کے ساتھ کہیں کہ ہمیں اس کا جواب معلوم نہیں۔ ہم تحقیق کر کے اگلے دن آپ کو بتائیں گے۔ ان کے پاس نماز اور دوسری اسلامی تعلیمات کے بارے میں چھوٹے چھوٹے کتابچے مختلف زبانوں میں ہوں جو وہ شائقین کو مفت دے سکیں۔ پارک کے اس پروگرام کا سب سے اہم جزو نماز ہو ۔ اس مقصد کے لئے غالباً عصر کی نماز زیادہ موزوں ہوگی۔ سب نوجوان مل کر نماز ادا کریں۔ نماز خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ ایسا ہر گز نہ کریں کہ جلدی جلدی پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ چار رکعت نماز میں لگ بھگ ۲۰ منٹ صرف کئے جائیں۔ نماز اس طرح پڑھی جائے گویا ہم فی الواقع اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور اس کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ یہ کام اگر کچھ برسوں تک مسلسل نہایت خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ کیا جائے تو اس کے غیر معمولی نتائج برآمد ہونگے مسجدوں میں نماز کی تحریک مسلمانوں کی اصلاح کے لئے کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ اسی طرح پارکوں میں نماز کی تحریک غیر مسلموں تک دین کا پیغام پہنچانے کے لئے چل پڑے تو ہماری ذمہ داری کے دونوں تقاضے پورے ہو جائیں گے۔ اور دنیا میں اگر خدانخواستہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو آخرت میں انشا ء اللہ ہمارا شمار ان لوگوں میں لوگوں میں ہوگا جنہوں نے خلق اللہ کے سامنے حق کی گواہی دی تھی اور ایک مومن کے لئے اتناہی کافی ہے۔

یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ یہ کام نظم کے ساتھ ہو۔ جو لوگ اس پروگرام میں شریک ہوں وہ باہم مشورہ سے ایک شخص کو متکلم مقرر کر لیں۔ وہی شخص کتاب پڑھے اور دوسری شخص بوقت ضرورت بولے۔ بقیہ لوگ بالکل خاموش رہیں اور سہم کے حق میں دل ہی دل میں دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے اور اس کی زبان سے وہی کلمات نکالے جس میں حق اور خیر ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page