Al-Risala · May 1979 · page 5

October 22, 1978

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۵

سلطنت موحدین کے حوصلہ مند فرماں روا عبدالمومن اندلس پر اپنے قبضہ کو مکمل کرنے کے بعد سارے یورپ کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس کی عمر نے وفا نہ کی۔ وہ پانچ لاکھ کے ناقابل تسخیر لشکر لے کر آگے بڑھنے والا تھا کہ جمادی الثانی ۵۵۸ھ میں اس کا انتقال ہو گیا۔ تاہم اس کی اگلی پشت میں امیر ابو عبداللہ محمد ناصر لدین اللہ کے زمانہ حکومت (۶۱۰-۵۹۵ھ) میں خود یورپ کی سیاست نے اس خواب کی تکمیل کے اسباب پیدا کر دیتے۔ اگر چہ ناصر لدین اللہ کی کم ہمتی کی وجہ سے یہ خواب تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

اس زمانہ میں جان لاک لینڈ (۱۲۱۶ - ۱۱۶۹ء) انگلستان کا بادشاہ تھا۔ یہی وہ بادشاہ ہے جس نے مشہور میگنا کارٹا (منشور آزادی) پر ۱۲۱۵ میں دستخط کئے تھے۔ اس کے زمانہ میں ملک کے کچھ امرا ر نے اپنے حقوق کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ امرا اور بادشاہ کے درمیان کشمکش بڑھی۔ پوپ انوسنٹ سوم (۱۲۱۶ - ۱۱۶۰) نے اس معاملہ میں احرار کا ساتھ دیا۔ لندن کا پادری رابرٹ ، جو اس مقابلہ میں بادشاہ کے ساتھ تھا، پوپ نے اس کو کلیسا سے خارج کر دیا۔ ان حالات میں شاہ جان نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ اندلس کے مسلم حکمران کا تعاون حاصل کر کے اپنے حریفوں کو شکست دے۔ اس نے ۱۲۱۳ء میں ناصر لدین اللہ کے پاس ایک خفیہ سفارت بھیجی۔ اس سفارتی وفد کے ارکان یہ تھے : تھامس ہارڈنگٹن، ، رالف فر نکوٹس ، ماسٹر رابرٹ۔ یہ وفد سمندری سفر کر کے مراکش پہنچا جہاں ناصر لدین اللہ مقیم تھا۔ وفد کے ارکان وسیع محل کے ایوان اور ڈیوڑھیوں سے گزرتے ہوئے، جن کے دونوں طرف شاہی خدام کی صفیں کھڑی ہوئی تھیں، امیر ناصر لدین اللہ کے سامنے پہنچے۔ انھوں نے امیر کو شاہ جان کا خط پیش کیا اور ترجمان کے ذریعہ امیر سے گفتگو کی۔ اپنے بادشاہ کی ہدایت کے مطابق انگلستانی وفد نے ناصر لدین اللہ سے کہا کہ اگر آپ شاہ جان کی مدد کریں تو وہ آپ کے باج گزار بن جائیں گے ۔ نیز یہ کہ عیسائیت پر ان کا اعتقاد ختم ہو گیا ہے اور وہ افریقہ اور مراکش اور اسپین کے عظیم بادشاہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اور اسی کے ساتھ ان کی رعایا بھی ۔ وفد نے انگلستان کی تعریف میں مزید کہا کہ وہ ایک زرخیز ملک ہے۔ اس کے باشندے تین زبانوں کو جاننے والے ہیں: لاطینی، فرانسیسی اور انگریزی۔ وہ مختلف قسم کی فنی صلاحیتیں بھی رکھتے ہیں ۔

مگر امیر ناصر لدین اللہ نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ اس نے اس کو سیاسی چال سمجھا۔ اس نے کہا میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بادشاہ جس کے پاس اتنا قیمتی ملک ہو، خود سے اپنے آپ کو دوسرے بادشاہ کے حوالے کر دے۔ اس نے وفد کے لوگوں کو اپنے دربار سے نکال دیا اور کہا کہ اب کبھی میرے پاس نہ آنا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے گئبرٹ روڈ نے لکھا ہے: ” تیرہویں صدی عیسوی میں انگلستان مکمل طور پر ایک مسلم ملک بن جاتا اگر ناصر لدین اللہ شاہ جان کی پیش کش کو قبول کر لیتا“ شاہ انگلستان کا اسلام کو قبول نہ کرنا ناصر لدین اللہ کے لئے مہنگا پڑا۔ ۶۰۹ ھ میں یورپی فوجیں بہت بڑی تعداد میں شاہ الفانسو کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر مسلم اندلس پر حملہ آور ہوئیں۔ ناصر لدین اللہ کے ساتھ چھ لاکھ کا لشکر تھا۔ مگر امیر کی نااہلی کی وجہ سے اس کو بری طرح شکست ہوئی ۔ بیشتر مسلم فوجی العقاب کے میدان میں عیسائیوں کے ہاتھوں مار ڈالے گئے۔ ایک عظیم امکان ایک بدترین انجام میں تبدیل ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page