Al-Risala · June 1979 · page 28

جب زبان والے بے زبان ہو جائیں گے

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۸

جب زبان والے بے زبان ہو جائیں گے

قرآن میں قیامت کے دن کا حال بتاتے ہوئے کہا گیا ہے: بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (تکویر) یعنی اس دن زندہ گاڑی ہوئی لڑکے سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی تھی۔ قدیم زمانہ میں بعض عرب قبائل لڑکی کو اپنے لئے عزت اور طاقت کا نشان سمجھتے تھے اور اگر لڑکی پیدا ہو جائے تو اس کو اپنے لئے مصیبت خیال کرتے تھے۔ یہ احساس کبھی اتنا شدید ہوتا کہ اپنی لڑکی کو پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کر دیتے۔ اس آیت کا اولین مصداق قدیم زمانہ کے عربوں کا یہی رواج ہے۔ تاہم بالواسطہ طور پر اس حکم میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات بھی شامل ہوں گے۔

ایک شخص ہے جس کی بعض غفلتوں سے موقع پا کر کچھ لوگ اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اس کو گرفتار کرتے ہیں۔ اس کو مجرم قرار دینے کے لئے سازشیں کرتے ہیں۔ اس پر بے ثبوت الزامات لگاتے ہیں فرضی عدالتیں قائم کرتے ہیں اور اس پر مقدمہ چلا کر اس کے خلاف نام نہاد قانونی فیصلے حاصل کرتے ہیں اور پھر اس کو پھانسی کے تختہ پر چڑھاتے ہیں یا گولی مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔ ایسے تمام لوگ بھی گویا اپنے آپ کو اسی مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں جہاں عرب کا وہ قدیم جاہل انسان کھڑا ہوا ہے جس نے اپنی بے گناہ بیٹی کو گڑھے میں دھکیل کر اوپر سے مٹی بھر دی تھی۔ کیونکہ کوئی فرد ہو یا حکومت، کسی کو حق نہیں ہے کہ جرم کے شرعی ثبوت کے بغیر کسی کو اس کی جان سے محروم کر دے۔ جو لوگ کسی کو اس قسم کی سزا دیں، جو ایسے بے ثبوت فیصلے کریں، جو اس کی موافقت میں بیانات جاری کریں، جو اس قسم کے معاملہ پر راضی ہوں اور زبان یا قلم سے اس کی تائید کریں، سب کے لئے یہ اندیشہ ہے کہ قیامت کے ہولناک دن خدا غضب ناک ہو کر ان سے پوچھے: تم نے کس جرم میں میرے اس بندے کو قتل کیا تھا۔ اور پھر اگر خدا اپنے فرشتوں کو یہ حکم دے کہ میرے اس مقتول بندے کو اس کی تمام غلطیوں کے باوجود آج زندگی دے دو اور اس کے قاتلوں کو اور قتل کی حمایت کرنے والوں کو ان کے تمام شان دار کارناموں کے باوجود موت کے گڑھے میں پھینک دو تو کون ہے جو قیامت کے دن خدا کو ایسے ایک فیصلے سے روکنے والا ہو۔

اسی طرح ایک شخص ہے جو لوگوں کو ان کی غفلتوں اور شرارتوں پر تنبیہ کرتا ہے۔ وہ ان کے اوپر تنقید کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ تمام لوگ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں جن پر اس کی تنقیدوں کی زد پڑتی ہے۔ وہ بگڑ جاتے ہیں اور اس شخص کے بارے میں بے بنیاد باتیں مشہور کر کے اس کی کردار کشی کرتے ہیں اس کے خلاف بے ثبوت شوشے چھوڑ کر اس کی دیانت داری کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا دیتے ہیں۔ اس کا علمی اور اشاعتی بائیکاٹ کر کے اس کو گم نامی کی قبر میں دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس پر جھوٹے مقدمے چلا کر اس کے لئے غیر ضروری مسائل پیدا کرتے ہیں اور اس کو ذہنی عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں یہ سارے لوگ بھی درجہ بدرجہ انہیں مجرم بالوں کی صف میں شامل ہیں جن کے اوپر خدا اتنا غضب ناک ہو گا کہ ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں اور زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا: تو کس جرم میں گاڑی گئی تھی۔ جس طرح بیٹی کو مار کر عرب باپ کا خوش ہونا اس کے کام نہ آیا، اسی طرح ان دوسرے لوگوں کی جھوٹی خوش خیالیاں بھی ان کے کچھ کام نہ آئیں گی اور عجب نہیں کہ آخرت میں وہ کھانا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں (۱۸ اپریل ۱۹۷۹)

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page