Al-Risala · July 1979 · page 6

توحید کے مکملی تقاضے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۶

دین کو خدا کی کتاب سے معلوم کرے اور پھر رسول کی سنت کی روشنی میں اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرے، اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ جو آدمی کو خدا کی پکڑ سے بچانے والا اور اس کے انعامات کا مستحق بنانے والا ہو۔ دو قسم کی زندگیاں قرآن کی چودھویں سورہ میں شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ کی مثال دے کر اس حقیقت کو سمجھایا گیا ہے کہ توحید کی بنیاد پر اٹھنے والی زندگی کیسی ہوتی ہے اور مشرک کی بنیاد پر اٹھنے والی زندگی کیسی "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے۔ کلمہ طیبہ ایسا ہی ہے جیسے شجرہ طیبہ جس کی جڑ خوب گڑی ہوئی ہو۔ اور اس کی شاخیں بلند ہوں۔ وہ خدا کے حکم سے ہر فصل میں اپنا پھل دیتا ہے۔ اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایسی ہے جیسے شجرہ خبیثہ کہ وہ زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کچھ ٹھہراؤ نہیں۔ اللہ ایمان والوں کو مضبوط کرتا ہے مضبوط بات سے دنیا میں اور آخرت میں۔ اور اللہ بے انصاف لوگوں کو بے راہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (ابراہیم ۲۴ - ۲۷)

زمین میں دو قسم کے درخت پائے جاتے ہیں۔ ایک شیشم اور چنار جیسے درخت جو زمین میں چٹان کی طرح گڑے ہوتے ہیں اور فضا کی پہنائیوں میں اپنی شاخیں پھیلائے رہتے ہیں۔ دوسرے برساتی پودے، جو زمین کے اوپر اوپر اگ آتے ہیں اور جو بھی چاہتا ہے ان کو ہاتھ بڑھا کر اکھاڑ لیتا ہے۔ دونوں قسم کے درخت گویا موحد اور شرک کی زندگی کو علامتی طور پر بتا رہے ہیں۔ موحد انسان اس کائنات کا مطلوب ”درخت“ ہے۔ ایک شخص جب موحد بنتا ہے تو ساری کائنات اس کی رزق رسانی کے لئے مستعد ہو جاتی ہے۔ وہ ایک تناور درخت کی شکل میں اگنا شروع ہو جاتا ہے۔ زمین میں بھی اس کو جماؤ ملتا ہے اور آسمان تک بھی اس کی سر سبزیاں اور شادابیاں پہنچتی ہیں۔ خدا کی نصرتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ وہ دونوں موسموں میں اپنی بہار دکھاتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

اس کے برعکس مشرک کی زندگی گویا برساتی جھاڑ جھنکار کی مانند ہے۔ وہ زمین میں بس اوپر اوپر اگ آتا ہے۔ خدا کی مدد اس کے ساتھ نہیں ہوتی۔ اس لئے نہ دنیا میں اس کو جماؤ حاصل ہوتا اور نہ آخرت کے موسم میں وہ کوئی پھل دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے قانون امتحان کی بنا پر یہ موجودہ دنیا میں جو مہلت دے رکھی ہے، اس کی وجہ سے اس کو وقتی طور پر زمین کی سطح پر اگنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اس کو زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کو آگ کی دنیا میں پھینک دیا جائے گا جہاں وہ جہنم کا ایندھن بنے۔ اور خدا کی یہ سرسبز و شاداب زمین سے اہتمام اور سنوار کے ساتھ صرف ان لوگوں کی وراثت میں دے دی جائے گی جو موت سے پہلے کی زندگی میں سچے خدا پرست ثابت ہوئے تھے۔ موحدانہ زندگي اور مشرکانہ زندگی کا فرق اپنی کامل صورت میں اگر چہ صرف آخرت میں ظاہر ہوگا، تاہم اس کا ظہور اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے۔ توحید پرست اگر تنہا ہے تو خدا کا انعام اس کو اس طرح ملتا ہے کہ باطل قوتیں، ، اپنی ساری کوشش کے باوجود، اس کی آواز کو مغلوب نہیں کر پاتیں ، وہ نظریاتی طور پر غالب ہو کر رہتا ہے اور اگر توحید پرست قابل لحاظ تعداد میں مجتمع ہو جائیں تو ان کو زمین میں سیاسی اور سماجی غلبہ بھی دے دیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page