Essats on Truth & Reality. p. 446
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۷
دنیا کی موجودہ آبادی تقریباً چار ارب ہے۔ ان میں سے دو آدمی ہر سیکنڈ میں مرجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ۲۴ گھنٹے میں تقریباً ایک لاکھ ۳۷ ہزار آدمی اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں تاکہ خدا کے دربار میں حاضر ہو کر یہ گواہی دیں کہ باخبر کرنے والوں نے ہم کو حقیقت سے باخبر نہیں کیا ۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو کروڑوں انسانوں سے ان کی آخرت چھین رہے ہیں۔ مگر خود اپنے بارہ میں انھیں یقین ہے کہ ان کی آخرت کسی حال میں چھپنے والی نہیں۔ وہ شہر کی ایک پر رونق سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ لوگ پیدل اور سواریوں پرادھر سے اُدھر جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
یہ نازک چہرے ، یہ خوب صورت جسم ، یہ ہنستی ہوئی مورتیں مرنے کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دی جائیں گی یہ سوچ کر بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
اور پھر ایک آہ کے ساتھ اس کی زبان سے وہ الفاظ نکلے جن کو انسانوں کے سوا پوری کائنات نے سنا: ”کیا اس سے بڑی کوئی بات ہے جس کے لئے آدمی تڑپے، کیا اس سے بڑی کوئی خبر ہے جس کو بتانے والے دوسروں کو بتائیں۔ “ کیسی عجیب بات ہے۔ آدمی اُسی بات سے بے خبر ہے جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے۔ اُسی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کوئی نہیں اٹھتا جس کو سب سے زیادہ دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues