اتحاد کی قیمت : شخصی جذبات کی قربانی
الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱
دنیا کے بارے میں سنجیدہ ، آخرت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ایک لیڈر کا سیاسی مفاد دوسرے لیڈر سے وابستہ ہو تو وہ اس کی خوبیوں سے آخری حد تک واقف ہو جاتا ہے اور دل کھول کر اس کا اعتراف کرتا ہے۔ اسی طرح ایک دکان دار کے پاس جب کوئی آدمی نوٹوں کی گڈیاں لے کر شادی کا سامان خریدنے کے لئے جاتا ہے تو دکان دار اس سے کمال نرمی اور اخلاق کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ڈاکوؤں کی پارٹی حد درجہ اتفاق و اتحاد کے ساتھ کام کرتی ہے۔ اسمگلنگ کی دنیا میں دیانت داری اور قول کی پابندی کا اصول انتہائی معیاری صورت میں قائم ہوتا ہے۔ لوگ اپنے دنیا کے معاملات میں پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایسے نہیں تو وہ اپنے مطلوبہ فوائد کو حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لئے جہاں دنیوی مفاد اور دنیوی مصلحت کا معاملہ ہو، وہ بہت جلد با اصول اور با اخلاق انسان بن جاتے ہیں۔ مگر جہاں دنیوی مفاد خطرہ میں نظر نہ آئے اور دنیوی مصلحتوں کے تجربہ کرنے کا اندیشہ نہ ہو وہاں وہ بالکل بے حس اور بے کردار بن جاتے ہیں۔ دنیا کی چیزوں میں ان کی حساسیت خوب کام کرتی ہے۔ وہ معاملہ کی نزاکتوں کو فوراً سمجھ لیتے ہیں اور فوراً اپنے رویہ کو اس کے مطابق بنا لیتے ہیں۔ مگر جہاں ان کی اپنی ذات محفوظ نظر آئے ۔ جہاں دنیوی مفادات خطرہ میں نہ ہوں وہاں وہ ایسے بن جاتے ہیں گویا ان کے اندر احساس نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ ایک ہوشیار آدمی اچانک بالکل بے وقوف اور ایک حساس آدمی اچانک بالکل بے حس دکھائی دینے لگتا ہے۔
لوگ خواہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ، ان کا اصلی مذہب صرف دنیا پرستی ہے۔ خدا پرستی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر وہ مذہبی ہوتے تو جو اخلاقیات کسی کے اندر دنیا کے زور پر ابھرتی ہیں وہی اخلاقیات ان کے اندر آخرت کے زور پر پیدا ہوتیں ۔ سچا مذہب یہ ہے کہ آدمی خالص اصول پسندی اور اعتراف حقیقت کی بنیاد پر دوسرے کے فضل کو مانے، خواہ اس کے لئے کوئی ظاہری دباؤ موجود نہ ہو۔ آخرت کے خوف نے اس کے اندر نرمی اور تواضع پیدا کر دی ہو۔ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا جذبہ اس کو اتحاد و اتفاق پر مجبور کر دے ۔ جہنم سے بچنے اور جنت حاصل کرنے کے شوق میں وہ عہد کو پورا کرنے والا اور معاملات میں دیانت داری برتنے والا بن گیا ہو۔
کچھ ایسے لوگ بھی ملیں گے جو عام حالات میں شرافت اور معقولیت کا ثبوت دیں گے۔ لیکن اگر ان کے خلاف کوئی قابل شکایت بات ہو جائے تو وہ فوراً بدل جائیں گے۔ ان سے شرافت اور معقولیت کا تحفہ صرف اس کو مل سکتا ہے جو ان کی " انا " کو خوش کر رہا ہو۔ جو ان کی اپنی برائی کے تانے بانے کو منتشر نہ کرے۔ مگر جس شخص سے انھیں کسی قسم کی ٹھیس پہنچ جائے، اس کے لئے وہ مکمل طور پر غیر شریف اور غیر معقول انسان بن جاتے ہیں۔ اس قسم کے کردار کے لوگوں کا بھی دین و مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہب نام ہے حقیقت اعلیٰ کو معیار بنانے کا۔ مگر وہ اپنے عمل سے بتا رہے ہیں کہ وہ خود اپنی ذات کو معیار بنائے ہوئے ہیں۔ وہ خود پرست ہیں نہ کہ خدا پرست جتنا سنجیدہ وہ اپنی ذات کے بارے میں ہیں اتنے ہی سنجیدہ اگر وہ آخرت کے بارے میں ہوتے تو وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues