Al-Risala · September 1979 · page 2

خدا پرستی کی جانچ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲

قرآن میں ارشاد ہوا ہے ـــــ "اور جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور ہم سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسیٰ بن مریم سے۔ اور تم نے ان سے گاڑھا عہد (میثاق غلیظ) لیا۔ تاکہ اللہ پوچھے سچوں سے ان کا سچ اور اس نے تیار کر رکھا ہے منکروں کا لئے دردناک عذاب (احزاب ۸) اس آیت میں میثاق غلیظ سے کیا مراد ہے، اس کا ذکر دوسرے مقام پر ان لفظوں میں ہے "اور جب اللہ نے اقرار لیا پیغمبروں کا کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں، پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو سچا کرنے والا ہو اس چیز کا جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤگے اور اس کی مدد کروگے۔ اللہ نے کہا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میری ڈالی ہوئی ذمہ داری کو اٹھایا۔ وہ بولے ہم نے اقرار کیا۔ اللہ نے کہا تو گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ پھر جو کوئی اس عہد سے پھر جائے تو وہی لوگ نا فرمان ٹھہریں گے (آل عمران ۸۲) ــــ اس عہد کا تعلق پیغمبروں کے واسطے سے دراصل ان کے امتیوں سے تھا۔ چنانچہ دوسرے مقامات پر واسطہ کو حذف کرکے براہ راست پیغمبر کی امت کا ذکر کیا گیا ہے (مائدہ ۱۲)

جب کوئی حق کا داعی اٹھتا ہے تو وہ خلا میں نہیں اٹھتا۔ وہ ایسے لوگوں کے درمیان اٹھتا ہے جو پچھلے داعیان حق میں سے کسی نہ کسی سے اپنے کو منسوب کئے ہوتے ہیں۔ وہ اس یقین کے ساتھ جی رہے ہوتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور انھوں نے اللہ کے برگزیدہ بندوں کا دامن تھام رکھا ہے۔ ان کی اس نفسیات کی وجہ سے نئے داعی کی آواز ان کو اپیل نہیں کرتی۔ وہ عقیدت میں اور وفاداریاں جو ماضی کی روایات پر قائم ہوں وہ ہمیشہ بہت طاقت ور ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ اس روایتی نظام کے ساتھ بے شمار فوائد اور مصلحتیں وابستہ ہوجاتی ہیں۔ وہ اجتماعی تعلقات کی بنیاد بن چکا ہوتا ہے۔ دوسری طرف نیاداعی ایک معمولی انسان نظر آتا ہے۔ اس سے اپنے آپ کو جوڑنا ایک ایسی حقیر چیز سے جوڑنے کے ہم معنی ہوتا ہے جس کی بظاہر کوئی قیمت نہ ہو، جو ماحول کے اندر اپنے کو بے زمین بنا لینے کے ہم معنی ہو۔ ان وجوہ سے کسی معاشرہ میں نئے داعی حق کا اٹھنا اس معاشرہ کو سخت ترین آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اب خدا پرست ہونے کے ثبوت دینے کے لئے بالکل نیا معیار سامنے آجاتا ہے۔ وہ لوگ جو عظمتوں کے مینار کے سایہ میں اپنا دین پائے ہوئے تھے ان کو اللہ کی خاطر بے قیمت ہوجانے کی سطح پر اپنی دین داری کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ جو لوگ گدیوں والے دین پر اپنی نشستیں حاصل کئے ہوئے تھے ، ان کو بے گھر ہوجانے والے دین پر اپنے کو قانع بنانا پڑتا ہے۔ جو لوگ مشہور و معروف بزرگوں سے وابستگی پر فخر کررہے تھے ۔ ان کو غیر معروف بزرگ سے وابستگی کی سطح پر اپنے کو اتارنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ارادی فیصلہ کے بغیر وراثتی طور پر دین کو پالیا تھا، اب ان کو شعور اور ارادہ کے تحت اللہ کے دین کو پہچاننے کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ جن لوگوں نے محفوظ دنیوی مفادات کی زمین پر اپنی خدا پرستی کا جھنڈا گاڑ رکھا تھا، ان کو دنیا کی بربادی کی قیمت پر خدا کا پرستار بننا پڑتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page