آپ سب سے بڑے تھے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۲
روس کی آبادی اس وقت ۲۵ کروڑ ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں آزادانہ تعلقات کے رجحان نے پیدائش کے تناسب کو موت کے تناسب سے کم کر دیا ہے۔ یہ صورت حال بے حد تشویش ناک ہے۔ چنانچہ روسی حکومت پچھلے چند سال سے بچوں کی پیدائش پر بہت زور دے رہی ہے۔ حتیٰ کہ نئے بچے کی پیدائش خصوصی انعام دیا جاتا ہے۔ روسی حکمرانوں کی یہ کوشش کامیاب ہوئی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس کا فائدہ زیادہ مسلمانوں کے حصہ میں چلا گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ بچہ پیدا کرنے والی عورتیں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ یہ تناسب اگر جاری رہے تو ایک اندازے کے مطابق، ۲۵ سال میں سوویت یونین میں مسلم آبادی ایک سو ملین تک پہنچ جائے گی۔ جب کہ وہاں کی موجودہ مسلم آبادی ۴۵ ملین ہے۔ صہیونی عالمی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر پیدائش کی موجودہ رفتار جاری رہے تو اس صدی کے آخر تک ہر تین روسی شہروں میں سے ایک روسی مسلمان ہو گا (کریسینٹ، ٹورنٹو) مستقبل میں مسلم غلبہ کے خطرہ سے بچنے کے لئے روسی حکومت نے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس کا نام ہے روسیا نا (Russification) اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے روکا جائے کہ وہ ملک میں اتنی اکثریت حاصل کر لیں کہ اپنی بڑھی ہوئی آبادی کے زور پر اپنا علیحدہ تشخص (Seperate Identity) قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ روسی حکومت کی پریشانی کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ روس کا مغربی ایشیائی حصہ جہاں مسلمان زیادہ آباد ہیں، وہ قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ یہ علاقہ نہ صرف کپاس اور زرعی پیداوار کے لئے اہمیت رکھتا ہے بلکہ کئی بڑے تیل کے چشمے بھی اس میں واقع ہیں۔ تاہم روسی بنانے کی مہم ابھی تک بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے۔ مذہبی عبادات اور رسوم، جن پر حکومت نے پابندیاں لگائی ہیں، وہ پوشیدہ طور پر پہلے سے زیادہ رائج ہوگئی ہیں (ٹائمز آف انڈیا ۲۵ مارچ ۱۹۷۹) اسلامی زندگی فطرت کے عین مطابق ہے یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں جہان کی سعادتوں کا مجموعہ ہے جب کوئی فرد یا کوئی سماج اسلامی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ کائنات کے پورے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے وہ دنیا میں کوئی فساد پیدا نہیں کرتا اور آخرت میں بننے والے معیاری سماج کے لئے بھی قابل قبول ٹھہرتا ہے، اس کے برعکس غیر اسلامی طریقے فطرت سے ہٹے ہوئے طریقے ہیں۔ وہ طرح طرح کے بے شمار مسائل پیدا کرتے ہیں جس سماج میں نکاح کو بے قید سمجھ لیا جائے اور آزادانہ شہوت رانی کو پسند کیا جانے لگے وہاں قدرتی طور پر بچے نا خوانیدہ جہان سمجھے جانے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں آبادی میں کمی ہونا شروع ہوتی ہے اور بالآخر قومی طاقت کمزور ہو جاتی ہے مستقل صنفی تعلق کے بجائے آزادانہ صنفی تعلقات وجود میں آتے ہیں جس کی وجہ سے خاندانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ لوگ گھریلو ذمہ داریوں سے بھاگنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پیداشدہ بچوں کا کوئی سرپرست نہیں ہوتا۔ بچے خود رو پودوں کی طرح اگتے ہیں، سماجی وفاداریوں کا ان کے اندر کوئی شعور نہیں ہوتا۔ وہ صرف ملک کے جرائم میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ جوانی کی عمر میں مردوں کو گرل فرینڈ اور عورتوں کو بوائے فرینڈ ملتے رہتے ہیں۔ مگر جب شباب کی کشش ختم ہوتی ہے تو مرد عورت دونوں اکیلے ہو کر رہ جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues