Al-Risala · September 1979 · page 4

پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴

پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے

بعض قوموں میں گودنا گدوانے کا رواج ہے، پہچان کے لئے یا تبرک کے لئے جسم کے کسی حصہ پر خاص شکلیں یا نام بنوالیتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مطلوبہ شکل کے مطابق پہلے سوئی سے چھید کیا جاتا ہے اور پھر ان چھیدوں میں مسالہ بھر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کا لے رنگ کا نقشہ بن جاتا ہے جو عمر بھر رہتا ہے۔

قصہ ہے کہ ایک آدمی گودنا گودنے والے کے پاس گیا اور کہا کہ میرے ہاتھ پر شیر کی شکل بنا دو۔ گودنے والے نے اپنی سوئی اٹھائی اور نشان لگانا شروع کیا۔ سوئی کی چبھن آدمی کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ اس نے کہا ’’کیا بنا رہے ہو‘‘ گودنے والے نے کہا ’’دم‘‘، آدمی نے کہا ’’کیا دم کے بغیر شیر نہیں ہوتا؟ ‘‘ گودنے والے نے کہا اچھا۔ اور دوسری چیز بنانے لگا۔ اب پھر سوئی کی نوک چبھنے لگی۔ آدمی نے کہا اب کیا بنا رہے ہو ۔ اس نے کہا "پاؤں"، آدمی نے کہا ’’کیا پاؤں ضروری ہے‘‘ گودنے والے نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اب وہ دوسری چیز گودنے لگا۔ آدمی کے اندر پھر بے چینی پیدا ہوئی۔ اس نے کہا ’’اب کیا بنا رہے ہو‘‘ اس نے کہا ’’جبڑا‘‘ آدمی نے کہا کیا جبڑا ضروری ہے۔ تم بغیر جبڑے ہی کے شیر بنا دو۔ غرض اس طرح وہ ایک ایک چیز کو منع کرتا گیا اور بالآخر یہ ہوا کہ شیر کی تصویر نہ بن سکی، صرف چند متفرق نشانات اس کے ہاتھ پر بن کر رہ گئے۔ ۔۔۔ ہر مقصد کے لئے ابتدا ء کچھ سہنا پڑتا ہے۔ اگر آدمی سہنے کے لئے تیار نہ ہو تو وہ کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

عبدالحمید چھوٹانی (پیدائش ۱۹۲۳) پاکستان کے ایک ممتاز سائنس داں ہیں۔ وہ ممبئی آئے ۔ اس موقع پر ایک اخباری رپورٹر نے ان سے انٹرویو لیتے ہوئے سوال کیا : ’’انجینئرنگ کے میدان میں پاکستان اتنا پیچھے کیوں ہے‘‘، مسٹر چھوٹانی نے جواب دیا : ’’یہ صحیح ہے کہ ہم انجینئرنگ میں ابھی تک قابل قدر ترقی حاصل نہ کر سکے۔ اس کی خاص وجہ ہے ہمارے یہاں بنیاد (Base) کی کمزوری۔ اکادکا انڈسٹری سے آخر کتنی ترقی کی جاسکتی ہے (اخبار عالم ۴ ۱۹۶۹) یعنی تعلیم گاہیں اسی وقت انجینئر زیادہ پیدا کریں گی جب کہ ان کی کھیت کے لئے ملک میں زیادہ صنعتیں بھی موجود ہوں ۔ صنعتوں کی کمی ہو تو کوئی ملک زیادہ انجینئر پیدا نہیں کر سکتا۔

اسی طرح ہر کام کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ بنیاد کے بغیر کوئی اقدام کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ مثلاً جمہوری دور میں سیاست کی بنیاد عوامی رائے ہے۔ اگر آپ کو عوامی ووٹوں کی اکثریت حاصل نہ ہو تو گو یا آپ کے پاس وہ بنیاد ہی نہیں ہے جس پر الیکشن لڑنے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ الیکشن میں کو دیں تولازماً آپ ہاریں گے اور اگر آپ کے اندر اعتراف کا مادہ نہیں ہے تو مزید یہ حماقت کریں گے کہ اپنی ہار کو چھپانے کے لئے یہ شور کریں گے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر موقع ملے گا تو فوج سے ساز باز کر کے مقبول عوام لیڈروں کو قتل کرائیں گے تاکہ آپ عوامی بنیاد نہ ہونے کے باوجود حکومت کی گدی پر پہنچ سکیں۔ اگر چہ اس قسم کی کوشش کبھی کسی کے لئے نتیجہ خیز نہیں ہوئی ہے۔ مستقبل کے اعتبار سے ، یہ ملک کی بربادی ہے اور بالآخر خود اپنے آپ کی بھی۔

ماہنامہ ستمبر ۱۹۶۹ء

‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues

Printed page