جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹
جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا۔ اور عاقبت صرف ڈرنے والوں کے لئے ہے۔ جو شخص بھلائی لے کر آیا تو اس کو ملے گا اس سے بہتر اور جو بدی لے کر آیا تو ایسے لوگوں کو جو بدی کے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے (قصص ۸۳-۸۴)
موجودہ زندگی میں جو لوگ اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ گھمنڈ کی نفسیات سے پاک ہیں اور وہ بگاڑ کا مزاج نہیں رکھتے ہیں، ان کو جنت کی نفیس اور لطیف آبادیوں میں بسایا جائے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ گھمنڈ کو اپنی غذا بنائیں، جن کی فسادی کارروائیوں سے ان کے پڑوسیوں اور ان کے متعلقین کو امن حاصل نہ ہو وہ جہنم کے پر عذاب ماحول میں پھینک دیے جائیں گے۔
بڑا بننے کا مطلب کیا ہے۔ کوئی بھی شخص خدا کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا نہیں بتاتا۔ نہ کوئی یہ دعویٰ لے کر اٹھتا کہ وہ زمین و آسمان یا سورج اور چاند سے بڑا ہے۔ بڑائی کا اظہار ہمیشہ انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ آدمی کا بڑا بننا یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے اوپر اپنا اقتدار قائم کرے۔ حالاں کہ وہ صرف عاجز اور بے طاقت وجود کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ کسی انسان کی طرف سے آئی ہوئی تنقید کے اوپر پھر اٹھے۔ حالاں کہ کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو تنقید سے بالا تر ہو۔ اس کے پاس حق کا پیغام آئے تو وہ اس کو ماننے سے انکار کردے حالاں کہ عبدیت کا تقاضا ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے۔ کسی کے زبان یا قلم سے اس کے احساس برتری کو ٹھیس پہنچے تو وہ اس کو بخشنے کے لئے تیار نہ ہو۔ حالاں کہ برتری کا حق اس دنیا میں صرف ایک اللہ کو ہے۔
زمین میں فساد برپا کرنا کیا ہے۔ یہ کہ معاملات اور برتاؤ میں ایسا رویہ اختیار کیا جائے جو خدا کی مقرر کی ہوئی حدود کے خلاف ہو۔ قرآن کے مطابق فساد کی کچھ صورتیں یہ ہیں : اللہ سے نڈر ہو کر زندگی گزارنا (اعراف ۵۶) اللہ کے راستہ سے روکنا (نحل ۸۸) دلیل آجانے کے بعد اس کو نہ ماننا (آل عمران ۷۳) داعی کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کرنا (اعراف ۳۷)، کرشمے دکھا کر لوگوں کو حق سے پھیرنا (یونس ۸۱) کبر اور ظلم کی وجہ سے حق کا انکار کرنا (نمل ۱۴) شریف آدمیوں کو بے عزت کرنا (نمل ۳۴) چال بازی کا طریقہ اختیار کرنا (بقرہ ۱۱) رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا (محمد ۲۲) دوسرے کا مال چرانا (یوسف ۷۲) کھیتی کو ویران کرنا اور انسان کو قتل کرنا (بقرہ ۲۰۵) عہد کرنے کے بعد اس کو توڑنا (رعد ۲۵) اسراف کا طریقہ اختیار کرنا (شعراء ۱۵۲) مال و دولت پر فخر کرنا (قصص ۷۷) قوت و طاقت کا غلط استعمال کرنا (فجر ۱۲) کمزوروں کا استحصال کرنا (بقرہ ۲۰۵) باہمی لڑائی پیدا کرنا (مائدہ ۶۴)، اختلاف وانتشار برپا کرنا (اعراف ۳۴)، ناپ تول میں کمی کرنا (ہود ۸۵) کسی کی نسل ختم کرنے کی کوشش کرنا (قصص ۴)، مال کو صرف دنیا کے مقاصد میں خرچ کرنا (قصص ۷۷) وغیرہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1979 All issues