آخری سین کا انتظار کیجئے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۷
آخری سین کا انتظار کیجئے
قدیم یونان میں جو ڈرامے لکھے گئے، وہ اکثر پانچ ایکٹ (باب) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اور ان کا ایک کردار کوئی ظالم اور سفاک آدمی ہوتا ہے۔ ایک شخص ایک ڈرامے کو پڑھ رہا ہے۔ اس نے تین ایکٹ ختم کر لئے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ظالم اپنے سارے ظلم کے باوجود کامیاب ہوتا جا رہا ہے۔ وہ گھبرا اٹھتا ہے۔ مگر جو شخص ڈرامے کی پوری کہانی جانتا تھا، اس نے کہا:
WAIT FOR THE LAST ACT
آخری ایکٹ (باب) کا انتظار کرو۔ چناںچہ پڑھنے والا جب آخری ایکٹ پر پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حالات ظالم کے خلاف ہوگئے۔ اور اس کا خاتمہ بالآخر اسی برے حال میں ہوا جو انسان کا ضمیر ایک ظالم انسان کے لئے چاہتا تھا۔ یہی بات اس طویل تر کہانی کے لئے بھی صحیح ہے جو زمین پر دہرائی جارہی ہے۔ جن لوگوں کے اندر اخلاقی احساس زندہ ہے، وہ زمین کے حالات کو دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں۔ یہاں استحصال کرنے والے پھلتے پھولتے ہیں۔ یہاں بے انصافی کرنے والے انصاف اور انسانیت کا کریڈٹ لے رہے ہیں، یہاں ظاہر دار اور مصلحت پرست کامیابی کے منازل طے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں آدمی اپنی ہر بیہودگی کو جائز ثابت کرنے کے لئے شاندار الفاظ پالیتا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ کہہ اٹھتے ہیں: "یہ دنیا کیا ظالموں اور بے انصافوں کے لئے بنائی گئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ڈرامے کے آخری سین کا انتظار کیجئے۔ دنیا آج جیسی کچھ بھی نظر آتی ہو مگر اس کا خاتمہ یقیناً کامل انصاف پر ہوگا۔ اور اس وقت کے آنے میں زیادہ دیر نہیں۔
آدمی بدل جاتا ہے
ترکی کے ابتدائی سلاطین بہت سادہ زندگی گزارتے تھے، حتیٰ کہ دربار میں بھی کسی غیرمعمولی اہتمام کے بغیر بیٹھتے تھے۔ سلطان محمد ثانی (۱۴۸۱-۱۴۵۱) جو فتح قسطنطنیہ کے عظیم کارنامہ کی وجہ سے سلطان محمد فاتح کے نام سے مشہور ہوا، ایک بار اپنے وزیروں کے ساتھ مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس اثنا میں ایک کسان کچھ فریاد لے کر حاضر ہوا۔ یکساں قسم کے لوگوں کے درمیان وہ سمجھ نہ سکا کہ وہ کس سے مخاطب ہو۔ اس نے کہا: "تم میں سے سلطان کون ہے؟ " یہ واقعہ سلطان پر شاق گزرا۔ اس کے بعد اس نے مجلس وزراء میں بیٹھنا بند کر دیا۔ وہ دریچہ کے پیچھے بیٹھ کر اپنے وزیروں کی بحثیں سننے لگا۔ بعد میں یہ اصول بھی برقرار نہ رہ سکا۔ سلیمان اعظم (۱۵۶۶-۱۵۲۰) کے دور سے سلاطین ترکی نے مجلس وزراء میں شرکت بالکل بند کر دی۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ صدر اعظم مجلس وزراء کے فیصلے کو سلطان تک پہنچا دیتا اور پھر سلطان اپنا حکم سنا دیتا جو آخری ہوتا۔ آدمی بظاہر اچھا ہوتا ہے مگر جب کوئی جھٹکا پڑتا ہے تو وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues