Al-Risala · October 1979 · page 9

آسانی ہمیشہ مشکلں میں بعد آتی ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۹

آسانی ہمیشہ مشکلں میں بعد آتی ہے

گرمیوں کے موسم میں گرد و غبار سے بھری ہوئی آندھی جب اٹھتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر روس کے ماہرین موسمیات نے قراقرم کے ریگستانوں کے تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ گرد بھری ہوئی آندھیاں زمین پر موسم کی سختی کو کنٹرول کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہیں۔ جب آندھیاں چلتی ہیں توان کی وجہ سے گرد اٹھ کر او پر چھا جاتی ہے اور فضا میں ایک غلاف کی صورت بنا لیتی ہے۔ اس طرح یہ آندھیاں زمین کی سطح کو گرمی کی تپش سے محفوظ رکھتی ہیں۔ روسی سائنس دانوں نے مختلف آلات اور جہازوں کا استعمال کر کے آندھیوں کی خصوصیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں بھی ریگستان کی تپتی ہوئی سطح اس وقت ٹھنڈی ہو جاتی ہے جب گرد سے بھری ہوئی آندھیاں چلنا شروع ہوتی ہیں۔ گرد کے یہ سایہ دار بادل محدود و فضا میں بھی چھا سکتے ہیں اور کافی دور تک بھی، جیسے عرب سے جنوبی امریکہ تک اور وسط ایشیا سے بحر آرکٹک تک۔

قدرت کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ ہر مفید واقعہ کسی پر مشقت عمل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے جو بتاتا ہے کہ ہم جب اپنی زندگی کے بارے میں کوئی منصوبہ بنائیں تو اس حقیقت کو بھی ضرور سامنے رکھیں کہ مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لئے ہم کو جد و جہد کے پر مشقت دور سے گزرنا ہو گا۔ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اسی ڈھنگ پر بنایا ہے۔ اور اس سے مطابقت کر کے ہی ہم کوئی مفید نتیجہ برآمد کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ ہم کو آندھی کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے اور اس کے بغیر ہی ہمارے سروں پر ٹھنڈا بادل سایہ کرلے توایسے نتیجہ کو پانے کے لئے ہمیں دوسری کائنات بنانی پڑے گی۔

اپنی کمیوں کو جانئے

وہ بڑھاپے کی منزل میں تھا۔ مگر اس نے شادی نہیں کی تھی، اس لئے کہ اس کو ایک آئیڈیل رفیقہ حیات کی تلاش تھی۔ لوگوں نے پوچھا : کیا آپ کو زندگی بھر کوئی ایسی خاتون نہیں ملی جو آئیڈیل رفیقہ حیات بن سکتی ہو اس نے جواب دیا : ایک خاتون ایسی ملی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ وہ بھی اپنے لئے ایک آئیڈیل شوہر تلاش کر رہی تھی۔ اور بدقسمتی سے میں اس کے معیار پر پورا نہ اتر سکا۔

لوگ عام طور پر دوسروں کی کمیوں کو جاننے کے ماہر ہوتے ہیں اس لئے ان کا کسی سے نباہ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی اپنی کمیوں کو جان لے تو اس کو معلوم ہو کہ وہ بھی اسی بشری مقام پر ہے جہاں وہ دوسرے کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ اپنی کمیوں کا احساس آدمی کے اندر تواضع اور اتحاد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ صرف دوسروں کی کمیوں کو جانتا ہو تو اس کے اندر گھمنڈ پیدا ہوگا اور کسی سے نباہ کرنا اس کے لئے مشکل ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues

Printed page