اسلام ہر زمانہ کے انسان کے لئے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱
یہ سمجھ کر رہے کہ اس کو اپنے کارنامہ حیات کا حساب اللہ کو دینا ہے، تو یہ بات انسان کو اپنی فطرت کی آواز معلوم ہوگی۔ اس پیغام کے بارے میں اس کے اندر یہ شک نہیں ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں وہ چلنے والی چیز نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کو وہ ایک ایسی چیز سمجھے گا جو عین اس وقت ظہور میں آ جاتا ہے جب کہ ایک فرد ذاتی طور پر اس کا اعتراف کر لے۔ جب کہ دوسری صورت میں اسلام ایک ایسی چیز معلوم ہوتا ہے جو کسی ایک شخص کے ارادہ سے ظہور میں نہیں آ سکتا، اس کے لئے ضروری ہے کہ ساری دنیا اس کی حمایت پر کھڑی ہو جائے۔ اللہ کا مطلوب انسان بننے کا معاملہ تمام تر ایک ذاتی ارادہ کا معاملہ ہے۔ آدمی کا اسلام اسی وقت کامل و مکمل ہو جاتا ہے جب کہ اپنی ذاتی زندگی کی سطح پر وہ اسلام کو پوری طرح اختیار کرلے۔
جس طرح پانی ایک گلاس میں ٹھہرتا ہے نہ کہ بسیط فضا میں۔ اسی طرح اسلام ایک فرد انسانی کی روح میں متمکن ہوتا ہے نہ کہ حقیقتاً کسی آفاقی اجتماعیت میں۔ افراد انسانی کی کوئی قابلِ لحاظ تعداد جب اسلام کو اپنا سرمایہ زندگی بنا لے تو ان کے مجموعہ سے بالآخر وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے، تا ہم اسلامی نظام کا قیام اسلامی تحریک کا اصل مقصود نہیں ہے۔ اسلام کا اصل مقصد فردِ فرد کی روح کو خدائی نور سے روشن کرنا ہے تاکہ موت کے بعد جب وہ آخرت کی دنیا میں پہنچے تو وہاں اس کو جنت میں داخلہ مل سکے۔ اسلام کا اصل مقصود انسان کو جنتی دنیا کا شہری بنانا ہے نہ کہ کسی قسم کے دنیوی نظام کا شہری بنانا۔ دنیا میں بہتر نظام قائم کرنے کا تعلق حقیقتاً بہتر نظام سے نہیں بلکہ بہتر انسان سے ہے۔ کسی نظام کو چلانے والے حقیقتاً آدمی ہوتے ہیں نہ کہ کوئی قانونی ڈھانچہ۔ سرکاری عملہ اگر سست ہو تو ایک عمدہ منصوبہ اپنا نشانہ پورا کرنے سے رہ جائے گا۔ رشوت لینے والے سرکاری ملازمین کسی بھی قانونی نفاذ کے عمل در آمد کو رشوت لے کر ناکام بنا دیں گے۔ بد عنوان افسران کسی بھی اصلاحی اسکیم کو ایسی تاویلات و توجیہات کے خانہ میں ڈال دیں گے جس سے اس کو نکالنا صدر اور وزیر اعظم کے لئے بھی ممکن نہ ہوگا۔ ایک مشین کو آپ بٹن دبا کر چلا سکتے ہیں۔ مگر انسان کو چلانے کے لئے ایسا کوئی بٹن نہیں ہے۔ انسان ایک خود مختار مخلوق ہے۔ وہ اسی وقت کسی کام کو حسن وخوبی کے ساتھ ادا کرتا ہے جب کہ وہ خود بھی اس کو کرنا چاہتا ہو۔ اس لئے نظام بنانے کا اصل کام افراد بنانا ہے۔ لوگوں کے اندر خدا کا خوف اور آخرت کی فکر پیدا کرنا بظاہر ایک اخروی کام ہے۔ مگر یہی نظام دنیا کی تعمیر بھی ہے۔ حقیقی معنوں میں آخرت پسند انسان جب قابلِ لحاظ تعداد میں پیدا ہو جاتے ہیں تو انھیں کے شخصی اوصاف کے دنیوی ظہور کا نام اسلامی نظام ہے۔ جن لوگوں کا شعور اتنا بیدار ہو جائے کہ وہ سورج کی روشنی اور ہوا کے جھونکے میں خدا کا پیغام سننے لگیں، انھیں سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کھلے اور چھپے ہر حال میں انصاف پر قائم رہیں اور وہی کریں جو حق کی رو سے انھیں کرنا چاہئے ـــــــــــ یہ اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، وہ ہر زمانہ کے انسان کے لئے ہے خواہ وہ پہلی صدی کا انسان ہو یا بیسویں صدی کا انسان۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues