موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴
موت کے اس پار
موریس رانگنز جو ایک بڑے امریکی ڈاکٹر ہیں، انھوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر اعلان کیا ہے کہہ موت کے دروازے کے دوسری طرف جنت اور جہنم ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہر قیمت پر اپنے کو جہنم سے بچانے کی کوشش کریں۔ He was able to escape only after a loud voice boomed, "Come out! " He instantly "found himself back in his hos- pital bed, being shocked back to life."
One patient was so shaken by his experience that he quit his job to join the ministry. ڈاکٹر مورس رالنگز نے یہ رائے ان تین سالہ تجربات کی بنا پر قائم کی ہے جو ان کو مریضوں کے آپریشن کے سلسلے میں ہوئے ہیں۔ ان کے تجربہ میں تقریباً ایک سو ایسے مریض آئے جن کے دل کی حرکت آپریشن کے دوران بند ہوگئی۔ تاہم چند منٹ کے بعد دوبارہ ان کا دل حرکت میں آگیا ۔ ایسے لوگ گویا موت کے بعد کی دنیا میں داخل ہو کر دوبارہ موجودہ دنیا میں واپس آگئے ۔ ان مریضوں میں سے ۵۰ فی صد نے بتایا کہ وہ ایک بے حد اندھیرے مقام پر پہنچے ووہاں ناقابل برداشت تکلیف تھی۔ بہت سے لوگ چیخ رہے تھے کہ مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ ۔ ان مریضوں کو " موت کے بعد " جو تجربات ہوئے ان میں ہر ایک نے اپنے کو ایک ایسی تاریک سرنگ سے گزرتے ہوئے دیکھا جو بالآخر ایک بہت بڑے عذاب خانہ پر ختم ہوتی تھی۔ مگر ہاں کسی نے ان سے کہا کہ " واپس جاؤ " اور وہ فوراً اپنے جسموں میں لوٹ آئے۔ ڈاکٹر رالنگز کے مریضوں میں ایک شخص اپنے اس تجربہ سے اتنا دہشت زدہ ہوا کہ اس نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور پادری بن گیا۔ ڈاکٹر رالنگز کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بہت عام ہیں۔ مگر ڈاکٹر لوگ اس کو ” روحانی معاملہ “ کہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر رالنگز نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے : موت کے دروازہ کے اس پار (Beyond Death's Door)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues