Al-Risala · December 1979 · page 19

ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹

تذکیر القرآن البقرہ ۲ اے ایمان والو تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا جاتا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت۔ پھر جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ معروف کی پیروی کر دے اور خوبی کے ساتھ اس کو ادا کرے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے ایک آسانی اور مہربانی ہے۔ اب اس کے بعد بھی جو شخص زیادتی کرے، اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور اے عقل والو، قصاص میں تمھارے لئے زندگی ہے تاکہ تم بچو۔ تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ اپنے پیچھے، مال چھوڑ رہا ہو تو وہ معروف کے مطابق وصیت کرے اپنے ماں باپ کے لئے اور اپنے قرابت داروں کے لئے۔ یہ ضروری ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے۔ پھر جو کوئی وصیت کو سننے کے بعد اس کو بدل ڈالے تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا جس نے اس کو بدلا، یقینا اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ البتہ جس کو وصیت کرنے والے کی بابت یہ اندیشہ ہو کہ اس نے جانب داری یا حق تلفی کی ہے اور وہ آپس میں صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے قتل کے معاملہ میں اسلام میں قصاص کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی قاتل کے ساتھ وہی کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے۔ اس طرح ایک طرف آئندہ کے لئے قتل کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ کیوں کہ اپنی جان کا خوف آدمی کو دوسرے کی جان لینے سے روکتا ہے اور نتیجہ سب کی جانیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ قاتل کے قتل سے پورے معاشرہ کے لئے زندگی کی ضمانت پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف مقتول کے ورثاء کا انتقامی جذبہ ٹھنڈا ہو کر سماج میں کسی نئی تخریبی کارروائی کے امکان کو ختم کر دیتا ہے۔ تاہم قصاص کا معاملہ اسلام میں قابل راضی نامہ ہے۔ مقتول کے ورثاء چاہیں تو قاتل کو قتل کر سکتے ہیں، چاہیں تو دیت (مالی معاوضہ) لے سکتے ہیں اور چاہیں تو معاف کر سکتے ہیں۔ اس گنجائش کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ایک دوسرے کو بھائی سمجھنے کی فضا باقی رہے، ایک دوسرے کو حریف سمجھنے کی فضا کسی حال میں پیدا نہ ہو۔ نیز خون بہا کے اصول کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے مقتول کے وارثوں کو اپنے چلے جانے والے فرد خاندان کا ایک مالی بدل مل جاتا ہے جب کوئی مر جاتا ہے تو یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وراثت کا کیا جائے۔ اس سلسلے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اس کی وراثت کو اس کے رشتہ داروں میں معروف طریقہ سے تقسیم کر دیا جائے یہ گویا مال کا تقویٰ ہے۔ جب مرنے والوں کے رشتہ داروں تک حصہ چھوڑ اس کا چھوڑا ہوا مال پہنچ جائے تو اس سے معاشرہ میں یہ فضا بنتی ہے کہ از روئے حق جس کو جو دیا جانا چاہئے وہ دیا جا چکا ہے۔ اس طرح خاندان کے اندر ترکہ مال یا جائداد کے حصول کے لئے باہمی نزاع پیدا نہیں ہوتی، خاندان کا جو شخص قانونی اعتبار سے وارث نہ قرار پا تا ہو مگر اخلاقی اعتبار سے وہ مستحق ہو تو مرنے والے کو چاہئے کہ وصیت کے ذریعہ اس خلا کو پر کر دے۔ یہاں وراثت کے بارے میں معروف کے مطابق وصیت کرنے کا حکم ہے۔ آگے سورہ نساء میں ہر ایک کے حصہ کو قانونی طور پر معین کر دیا گیا ہے)

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page