Al-Risala · February 1979 · page 22

اس میں نصیحت ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲

چلنا ہی ہے جو کا اڑکا کی راگ جانے کا کی کی صحیح سمت میں ہو بیح سمت کا پتہ ہو تو جلدی رتورا مکر کوئی شکاری اگرجانور کے سایا لو جا نور مجھ پر بندوق چلا دے تو اس کی گولی اپنا نشانہ کھو دے گی ، کارتوس خالی کرنے کے بعد بھی وہ اپنی مطلوبہ چیز سے محروم رہے گا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو زندگی کا نصب العین مقرر کرنے میں غلطی کر جائیں۔ اگر آپ نے نصب العین کا تعین صحیح نہیں کیا ہے تو آپ کی ساری کوششیں اور قربانیاں اسی طرح رائیگاں چلی جائیں گی جس طرح کوئی شکاری غلط نشانہ پر بندوق چلا دے اور بالآخر اس کے حصہ میں خالی کارتوس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔

اس میں نصیحت ہے

انگلستان میں یہ قانون ہے کہ جانور کو ذبح نہ کیا جائے بلکہ کرنٹ کے ذریعہ ہلاک کیا جائے۔ اور اگر ذبح کیا جائے تو پہلے جانور کو بیہوش کر لیا جائے۔ مگر دونوں صورتوں میں ذبح کے اسلامی حکم پر عمل نہیں ہوتا۔ تا ہم پچھلے دس سال سے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو ذبحیہ کی اجازت مل گئی ہے، برمنگھم میں ۱۹۰۷ء سے ایک حلال میٹ کمپنی قائم ہے ۔ اس کا کام اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس وقت روزانہ تین ہزار سے چار ہزار تک جانور اور ۱۸ ہزار مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں۔ اس کا اسٹاف ۷۵ لوگوں پر مشتمل ہے ۔ مطابق جانور ذبح کرتا ہے۔ یہ یہود کا فرقہ ہے حکومت ان سے تعرض نہیں کرتی۔

ایک وجہ ان کی اقتصادی سیاسی اہمیت ہے۔

ان کا معیار بھی خاصا اونچا ہے۔ بلکہ دراصل اس فرقہ کے ساتھ رعایت ہی کی وجہ سے یہاں پر ذبیحہ کی اجازت مل سکی ہے۔ “ الحسنات رام پور فروری ۱۹۷۸ء صفحه ۲۷۷ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ اغیار کے پیدا کردہ حالات کس طرح کبھی اسلام کے لئے مفید بن جاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی اس کے برعکس صورت حال بھی پیش آتی ہے۔ یعنی مسلمان اپنی نادانی سے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں برطانیہ کے ایک مسلمان اقبال مسعود ندوی لکھتے ہیں : یہاں ایک اور فرقہ ہے جو اپنے طریقہ کے کہ اسلام کے موافق حالات برباد ہو جائیں۔ ایک ایسی جدوجہد جو اسلام کے نام پر کی گئی ہو، بالآخر وہ غیر اسلامی نتیجہ پر ختم ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page