کبھی سست رفتاری زیادہ عظیم ہوتی ہے
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
کبھی سست رفتاری زیادہ عظیم ہوتی ہے
تارکول کی چکنی سڑک پر نئی کار تیزی سے پھسل رہی تھی۔ دوسری طرف سڑک کے کنارے ایک کسان ٹریکٹر کی پیٹھ پر ہچکولے کھا رہا تھا۔ وہ ٹیلوں اور کھائیوں کو ہموار کر رہا تھا تاکہ اس کو فصل اگانے کے قابل بنائے۔ کار کے لئے کوئی ٹھہراؤ نہیں تھا جب کہ ٹریکٹر کو جگہ جگہ ٹھوکر لگ رہی تھی۔ اس کو بار بار رکنا پڑتا تھا۔ کار کے مقابلہ میں ٹریکٹر کی یہ حالت کسی بھی درجہ میں اس کی اہمیت کو نہیں گھٹاتی۔ کار بنے بنائے راستہ پر دوڑ رہی ہے، جب کہ ٹریکٹر خود اپنا راستہ بنا رہا ہے۔ ایک ماضی میں سفر کر رہا ہے، دوسرا مستقبل کی طرف مارچ کر رہا ہے۔ ایک تاریخ کے اندر گم ہے، دوسرا اپنی جدوجہد سے خود ایک تاریخ بنا رہا ہے۔ ٹریکٹر کی سست رفتاری میں جو عظمتیں چھپی ہوئی ہیں، اس کے مقابلہ میں کار کی تیز رفتاری کی کوئی حقیقت نہیں۔
دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک خود اپنے لئے مفید ہوتا ہے شیخ سعدی شیرازی (۶۹۱۔ ۵۸۹ ھ) کی کتاب بوستاں کے شروع میں ایک حکایت درج ہے۔ اس کا عنوان ہے: "پند دادن کسرےٰ ہرمز را۔ اس حکایت کے مطابق ایران کا بادشاہ نوشیرواں جب مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس نے اپنے جانشین ہرمز کو بہت سی نصیحتیں کیں۔ ان میں سے ایک نصیحت، سعدی کے الفاظ میں، یہ تھی :
مراعات دہقاں کن از بہر خویش کہ مزدور خوش دل کند کار بیش یعنی چودھریوں اور سرداروں کے ساتھ رعایت کرو، اس سے خود تم کو فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ مزدور جب خوش ہو تو وہ کام زیادہ کرتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues