Al-Risala · February 1979 · page 32

الٹی سمت میں

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۲

الٹی سمت میں

ایک لطیفہ ہے کہ دہلی میں ایک مسافر کناٹ پلیس کی سڑک پر چل رہا تھا۔ اس کو پارلیمنٹ ہاؤس جانا تھا۔ مگر اس کا رخ الٹی طرف تھا۔ اس نے راستہ میں ایک شخص سے پوچھا: ”پارلیمنٹ ہاؤس یہاں سے کتنی دور ہوگا “ جواب دینے والے نے کہا ”تقریباً ۲۵ ہزار میل “ مسافر یہ سن کر گھبرا گیا۔ ”جناب میں آپ سے راستہ پوچھ رہا ہوں اور آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں “ اس نے کہا : معاف کیجیے گا۔ میں نے مذاق نہیں کیا۔ اصل میں آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے الٹی طرف چل رہے ہیں ۔ اس لئے اگر آپ یوں ہی چلتے رہے تو زمین کا پورا چکر کرنے کے بعد ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے جس کی گولائی ۲۵ ہزار میل ہے “ یہ بات بھی اس وقت ہے جب کہ آپ عرض البلد کے ٹھیک اس خط پر چل رہے ہوں جس پر پارلیمنٹ ہاؤس واقع ہے۔ اگر آپ کچھ دائیں بائیں ہوگئے تو زمین کا بار بار چکر کرنے کے بعد بھی آپ اپنی منزل کو پانے سے محروم رہیں گے “ پارلیمنٹ ہاؤس کا کوئی مسافر اس قسم کی غلطی نہیں کرے گا۔ کیونکہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں اتنے نادان نہیں ہوتے کہ اپنی غلطی واضح ہونے کے بعد بھی بدستور الٹی راہ پر چلتے رہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ دین کے معاملے میں احساس ان کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وہ بدستور غلط راستہ پر چلتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ تباہی کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ احیار ملت کا سفر بھی موجودہ زمانہ میں کچھ اسی نوعیت کا ہوگیا ہے۔ لوگ الٹی سمت میں بھاگے جارہے ہیں وہ بھول گئے ہیں کہ الٹی سمت میں سفر آدمی کو منزل سے اور دور کر دیتا ہے نہ کہ اس سے قریب۔

مسائل کا حل خاموش منصوبوں میں نہ کہ پررونق ہنگاموں میں اسرائیل کے وزیر اعظم مستریچن سے پوچھا گیا "کیا اسرائیل اس کے لئے تیار ہے کہ مقبوضہ مغربی اردن اور فلسطینیوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے گفتگو کرے “ انھوں نے جواب دیا:

WE WILL FIND A SOLUTION TO THE PALESTINIAN PROBLEM, BUT NOT IN FRONT OF THE TELEVISION CAMERAS ہم فلسطینی مسئلہ کا حل پالیں گے۔ مگر ٹیلی وژن کیمروں کے سامنے نہیں۔ ٹائمز آف انڈیا ۱۳ دسمبر، ۱۹۷۷) قوموں کے مسائل کا حل خاموش منصوبہ بندی میں ہوتا معاملہ میں بیشتر لوگ اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ واضح کرنے والے ان کی غلطیاں واضح کرتے ہیں۔ ان کا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں۔ مگر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اس کو عزت کا سوال بنا لیتے ہیں۔ " اگر میں نے اس کے کہنے سے اپنی غلطی مان لی تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا‘، یہ ہے۔ مگر اکثر قائدین اس کو پُر رونق ہنگاموں میں تلاش کرتے ہیں، شاید اس لیے کہ اس طرح دو فائدوں میں سے کم از کم ایک فائدہ یقینی طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ قائد کی اپنی شخصیت بہرحال نمایاں ہو جاتی ہے۔ خواہ قوم کا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page