الٹی سمت میں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵
مسلم قیادت موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ ناکام قیادت ثابت ہوئی ہے۔
اس کی وجہ اس کی یہ غلطی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مستقبل کو تعمیر کے بجائے سیاست میں تلاش کیا۔ سیاست بازی کا مطلب ہے، اپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں کے خلاف مہم چلانا۔ جبکہ تعمیر یہ ہے کہ اپنے مسائل کے لئے خود اپنے اوپر عمل کیا جائے۔
کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ قوم کو اس حیثیت سے تیار کیا جائے کہ لوگوں کے عقائد مضبوط ہوں، ان کے اندر اخلاق کی طاقت ہو، وہ تعلیم میں اونچے ہوں، ان میں باہم اتحاد ہو اقتصادی شعبوں میں انھوں نے اپنی جگہ بنائی ہو۔ سماجی بہبود کے ادارے ان کے درمیان چل رہے ہوں۔ وہ زمانے کو پہچانیں اور اس کے مطابق کام کرنا جانتے ہوں۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے اندر وہ شعور ابھارا جائے کہ وہ صاحب نظریہ افراد کی حیثیت سے لوگوں کے درمیان رہ سکیں۔ انھیں چیزوں کے اوپر کسی قوم کی زندگی کا دارو مدار ہے۔ لیکن مسلمانوں نے دوسروں کے خلاف سیاسی ہنگامہ آرائی تو خوب کی، خود اپنی تعمیر کے لئے کوئی کام وہ کیا۔ مزید نادانی یہ ہے کہ سیاست بازی سے جب وہ کامیاب نہ ہو سکے تو اب انھوں نے دوسرا مشغلہ یہ اختیار کیا ہے کہ اپنی ناکامی کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ حالانکہ اس قسم کی باتوں سے نہ صرف یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ قرآن کے الفاظ میں انھوں نے کلمہ طیبہ کا درخت نہیں اگایا تھا، بلکہ کلمہ خبیثہ کا درخت اگایا تھا۔ کیونکہ کلمہ طیبہ کے درخت کے لئے خدا کا اعلان ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہیں سکتا۔ یہ انجام صرف کلمہ خبیثہ کے درخت کے لئے مقدر ہے کہ جو چاہے ہاتھ بڑھاکر اس کو اکھاڑلے۔ (ابراہیم)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues