کام کا آغاز خود اپنی ذات سے
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷
کام کا آغاز خود اپنی ذات سے
" ہماری قوم جاہل ہے، آپ اس کی جہالت دور کرنے کے لئے کیوں نہیں اُٹھتے؟ " " آپ نے خود کہاں تک تعلیم حاصل کی ہے؟ "
" میں تو بدقسمتی سے کوئی تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ "
" پھر آپ یہ کیجئے کہ فوراً کسی تعلیمی ادارہ میں داخلہ لے لیجئے ۔ اگر آپ نے پڑھ لیا تو قوم کا کم سے کم ایک جاہل کم ہو جائے گا۔ "
دو شخصوں کی یہ گفتگو بتاتی ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے کرنے کا کام کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ دوسروں کو تلقین کرنے کے بجائے ہر شخص اپنے کام میں لگ جائے ۔ زندہ قوم کی علامت یہ ہے کہ اس کا ہر شخص " میں کیا کروں" کے سوال پر سوچتا ہے۔ اس کے برعکس جب قوم کے افراد " دوسرے کیا کریں" کے سوال پر بحث کرنے لگیں تو سمجھنا چاہئے کہ قوم مر چکی ہے ۔ اُس قسم کی حرکت موت کی حرکت ہے نہ کہ زندگی کی حرکت۔
اقدام سے پہلے تیاری ضروری ہے
عربی کا ایک مثل ہے: قبل الرمی یبراش السھم (تیر مارنے سے پہلے تیر کو کمان میں ٹھیک طریقے سے جمایا جاتا ہے)۔ تیر کو کمان میں اچھی طرح بٹھائے بغیر یونہی چلا دیا جائے تو وہ کبھی نشانہ پر نہیں لگے گا۔ اسی طرح کوئی اقدام ضروری تیاری کے بغیر کیا جائے تو اس کا ناکام ہونا یقینی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues