سوچنے کی باتیں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳
سوچنے کی باتیں
جب کوئی شخص دوسرے کو فائدہ پہنچاتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص دوسرے کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں، اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اس پر عمل کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں۔
فطرت کے قانون کے مطابق دنیا میں مقام اس کو ملتا ہے جو اپنے آپ کو دوسروں کے لئے نفع بخش ثابت کرے (وما ينفع الناس فيمكث في الارض) ایسے کسی گروہ کے لئے ’خدا‘ کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں جس کے پاس دوسروں کے لئے صرف حقوق طلبی کے نعرے ہوں، دوسروں کے لئے‘ نفع بخشی اس نے کھودی ہو۔
اپنی ناکامی کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا گو یا فیصلہ کا سراد وسروں کے ہاتھ میں دینا ہے۔ اس کے برعکس جب آدمی اپنی ناکامی کی ذمہ داری خود قبول کرے تو گویا وہ فیصلہ کا سرا خود اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے۔ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی صورت میں آدمی کے پاس اس کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف غصہ اور نفرت کا اظہار کرتا رہے جب کہ اپنے آپ کو ذمہ دار قرار دینے کی صورت میں آدمی کی دبی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں، وہ دوبارہ زیادہ صحیح منصوبہ بناتا ہے اور اپنی قوتوں کو بروئے کار لا کر کامیاب ہو جاتا ہے۔ آپ جذباتی ہنگاموں سے وقتی طور پر آسمان سر پر اٹھا سکتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے کہ وقتی طوفانوں سے جو گرد اٹھتی ہے، وہ اپنے آغاز میں اگرچہ آسمان پر دکھائی دیتی ہے، مگر اپنے انجام میں اس کو صرف سطح زمین پر جگہ ملتی ہے جہاں انسانی قافلے اس کو اپنے قدموں کے نیچے پامال کرتے رہتے ہیں۔
انڈے کے اندر زندہ بچہ کا وجود یہ معنی رکھتا ہے کہ یک روز اس کے اوپر کا خول ٹوٹ جائے اور چیت جاگے، بچہ خول کے باہر آ جائے۔ اسی طرح کوئی انسانی گروہ اگر حقیقتاً زندہ ہے تو ناموافق حالات کبھی اس کا راستہ روک نہیں سکتے۔ اس کی اپنی زندگی اس کو ناموافق حالات کے خول سے نکالنے کی کافی ضمانت ہے۔
کوئی گروہ اپنے کو مظلوم بنائے اور دوسرے کو ظالم قرار دے، اور اسی حال میں اس پر نصف صدی گزر جائے تو یقیناً وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ کیوں کہ خدا کی اس کائنات میں یہ نا ممکن ہے کہ کوئی گروہ کسی کے اوپر نصف صدی تک ایک طرفہ ظلم کرتا رہے اور اس کے باوجود مظلوم گروہ کو خدا کی مدد حاصل نہ ہو۔