دعائیں قبول نہیں ہوتی
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲
دعائیں قبول نہیں ہوتی
لوگوں نے ایک بزرگ سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں اور ہماری دعا قبول نہیں ہوتی۔ بزرگ نے جواب دیا: اس لئے کہ آپ لوگ خدا سے وہ چیز مانگتے ہیں جو آپ دوسرے انسانوں کو دینے کے لئے تیار نہیں۔ آپ خدا سے مانگتے ہیں کہ وہ آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچائے۔ مگر آپ میں سے ایک شخص کو جب کسی کے اوپر غلبہ حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کو اپنے ظلم کا مزہ چکھانے سے باز نہیں رہتا۔ آپ خدا سے جان و مال کی امان مانگتے ہیں مگر آپ میں سے ایک شخص کو جب موقع ملتا ہے تو وہ اپنے بھائی کے جان و مال کو اپنے لئے جائز کر لیتا ہے۔ آپ خدا سے با عزت زندگی مانگتے ہیں مگر آپ میں سے ایک شخص اگر کسی کے اوپر قابو پالے تو وہ اس کو بے عزت کر کے خوش ہوتا ہے۔ آپ خدا سے مانگتے ہیں کہ وہ آپ کو دشمن قوموں کی سازش سے بچائے مگر آپ میں سے ایک شخص کو اگر کسی سے اختلاف ہو جائے تو اس کو اکھاڑنے کے لئے وہ ہر قسم کی سازشیں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ دعا کی قبولیت کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی دعا مانگنے میں سنجیدہ ہو۔ اس کی دعا اس کی پوری ہستی کی پکار ہو نہ کہ محض زبان کی حرکت سے نکلے ہوئے الفاظ۔ جب آدمی سنجیدہ ہو تو اس کی زندگی تضاد سے خالی ہو جاتی ہے۔ اس کی دعا میں اور اس کے عمل میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اگر ایک شخص فی الواقع ظلم کو ناپسند کرتا ہے اور دوسرے آدمی کے ظلم کو قابلِ شکایت سمجھ رہا ہے تو ناممکن ہے کہ وہ خود اپنے دائرے میں ظالم بن جائے۔ اپنے دائرہ اختیار میں ظلم کرنا اور دوسرے کے ظلم پر احتجاج کرنا ایسا تضاد ہے جو ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے کہنے میں سنجیدہ نہیں ہے، وہ قول بلا فعل (صف) کی سطح پر ہے۔ اور جو شخص قول بلا فعل کی سطح پر ہو اس کی دعا اس کے منہ پر مار دی جاتی ہے نہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کا شرف حاصل کرے۔ ایک شخص لوگوں کو باہم لڑاتا پھرتا ہو اور خدا سے دعا کرے کہ ”خدایا لوگوں کو متحد کر دے، تو یہ اللہ کی نظر میں دعا نہیں ہے بلکہ ایک مذاق ہے جو دعا کرنے والے کو صرف سزا کا مستحق بناتی ہے۔ دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ آدمی سنجیدہ دل کو دیئے رہا ہو جو خدا سے اپنے لئے مانگ رہا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues