باہمی اختلاف
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰
ملے گی مسلمانوں کے لئے با عزت زندگی کا ملنا ایک اجتماعی واقعہ ہے۔ اس کے لئے اللہ کی اجتماعی مدد درکار ہے۔ اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ اجتماعی مدد ود ہمیشہ اجتماعی عمل پر نازل کرتا ہے۔ انفرادی عمل پر اجتماعی مدد کبھی نہیں آتی۔ آدمی نماز میں خدا سے ’’ملاقات‘‘ کر کے مسجد سے باہر آتا ہے تاکہ وہ بندوں سے ’’ملاقات‘‘ کرے۔ مگر وہ بندوں کی طرف سے منھ پھیر لیتا ہے۔ خدا سے جڑنے والا بندوں سے جڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اللہ سے جڑ کر بھی وہ اکیلا رہتا ہے۔ کروڑوں مسلمان روزانہ اللہ سے جڑ رہے ہیں مگر وہ آپس میں جڑ کر متحوہ ملت نہیں بنتے۔ حالاں کہ اللہ سے جڑنے کا تقاضا ہے کہ آدمی اللہ کے بندوں کے ساتھ جڑ جائے۔ اللہ سے ’’اتحاد‘‘ اور اللہ کو ماننے والوں سے ’’اختلاف‘‘ خدا کے غضب کو بھڑکانے والا ہے نہ کہ خدا کی نصرت کو کھینچنے والا۔
جب ایسا ہو کہ لوگ اللہ سے جڑتے ہوئے نظر آتے ہوں مگر وہ بندوں کے ساتھ نہ جڑ رہے ہوں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے بھی جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ وہ ظاہری عبادت کو دہرارہے ہیں مگر عبادت کی حقیقت سے خالی ہیں۔ اللہ کے ساتھ جڑنا آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے ایسا آدمی مسجد سے باہر انسانوں کے ساتھ انانیت اور سرکشی کا مظاہرہ کس طرح کرے گا۔ اللہ سے جڑنا آدمی کو حساب کے دن کی یاد دلاتا ہے پھر ایسا آدمی بندوں کے درمیان خدا کی پکڑ سے بے خوف ہو کر کس طرح رہے گا۔ اللہ سے جڑنا آدمی کے اندر خداوندی اوصاف پیدا کرتا ہے پھر وہ دوسروں کے اوپر مہربانی کرنے سے کیوں کر خالی ہو سکتا ہے جو اللہ کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اللہ سے جڑنا آدمی کو ایک ایسی ہستی کا پتہ رس عطا کرتا ہے جو تمام خوبیوں اور بھلائیوں کا سر چشمہ ہے پھر ایسے آدمی سے دوسروں کو برائی کا تجربہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ اللہ سے جڑنا آدمی کو اس روز حساب کی یاد دلاتا ہے جب کہ ہر آدمی بے لاگ انصاف کے ترازو پر کھڑا کیا جائے گا۔ پھر وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ بے انصافی کرکے یہ خطرہ کیسے مول لے سکتا ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا کی پکڑ کی زد میں آجائے۔ اللہ سے جڑنا اس لئے ہوتا ہے کہ آدمی اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطیوں سے درگزر فرمائے پھر جو آدمی خود اپنے لئے عفوو در گزر کی درخواست کر رہا ہے وہ دوسروں کے ساتھ سخت گیری کا رویہ کس طرح اختیار کر سکتا ہے۔ سورج کی دنیا میں رہنے والا کبھی تاریکی نہیں پھیلاتا پھولوں کے پڑوس میں رہنے والا کبھی بد بو نہیں بکھیرتا۔ یہی معاملہ بندہ مومن کا ہے۔ مومن خدا اور فرشتوں کی صحبت میں اپنے روز و شب گزارتا ہے۔ پھر جو آدمی خدا اور فرشتوں کی صحبت میں رہے، اس سے کسی کو ظلم اور بد خواہی کا تجربہ کیسے ہو سکتا ہے اور جس معاشرے میں ظلم اور بد خواہی نہ ہو وہاں اختلاف کا کیا گزر۔
یہ اوصاف جب کسی کے اندر پیدا ہو جائیں تو اس کے اندر سے ان اوصاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو آدمی کو بندوں سے دور کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس کا خدا سے جڑنا لازماً بندوں سے جڑنا بن جاتا ہے۔ اور جب بندے باہم جڑ جائیں تو اللہ کو یہ منظر اتنا زیادہ پسند ہے کہ وہ کل صبح آنے والی بارش کو آج شام ہی ان پر برسا دیتا ہے ، دہ کل کی نعمتوں کو آج ہی اپنے بندوں پر انڈیل دیتا ہے۔ اتحاد کسی گروہ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اتحاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اتحاد دنیا کی عزت بھی ہے اور اتحاد آخرت کی عزت بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues