گروہ پرستی
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۸
گروہ پرستی
عبد اللہ بن سلام ایک یہودی عالم تھے جو قبیلہ بنو قینقاع سے تعلق رکھتے تھے۔ جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر ہماری کتابوں میں آیا ہے اور جن کا ہم انتظار کر رہے تھے۔ جب تک آپ مکہ میں تھے وہ خاموش رہے، جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو عبد اللہ بن سلام مدینہ آئے تاکہ آپ سے ملیں۔ جب وہ آئے تو ان کے مشورے کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک گھر کے اندر بٹھا دیا اور یہودیوں کو بلا کر پوچھا کہ عبد اللہ بن سلام تمھارے درمیان کیسے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا: سیدنا وابن سیدنا و حبرنا وعالمنا (وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔ وہ ہمارے بزرگ اور ہمارے عالم ہیں) اس کے بعد عبد اللہ بن سلام گھر سے نکل کر ان کے سامنے آگئے اور کہا: اے گروہ یہود، اللہ سے ڈرو اور محمد جو کچھ لائے ہیں اس کو قبول کر لو۔ خدا کی قسم تم جانتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ تم ان کو تورات میں لکھا ہوا پاتے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ میں ان پر ایمان لاتا ہوں۔ ان کی تصدیق کرتا ہوں اور میں نے ان کو پہچان لیا ہے۔
عبد اللہ بن سلام نے جب اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا تو وہی یہود جو اس سے پہلے ان کے علم اور ان کی فضیلت کا اعتراف شان دار لفظوں میں کر چکے تھے بولے: تم نے جھوٹ کہا (رکن بت) حتی کہ وہ ان کو مارنے کے لئے دوڑے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھ چند اور یہودیوں نے اسلام قبول کیا تو یہودی علماء نے کہا: محمد پر جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کا اتباع کیا ہے وہ صرف ہمارے برے لوگ ہیں۔ اگر وہ ہمارے اچھے لوگ ہوتے تو ہرگز وہ آبا و اجداد کے دین کو نہ چھوڑتے اور دوسرے دین میں نہ چلے جاتے (ما آمن بمحمد ولا اتبعه الاشرارنا، ولو كانوا من اخيارنا ماتوا كوادين آبائهم وذهبوا الى دين غيره ، سيرت ابن هشام جزء ۲)
بہت سے لوگ خدا اور مذہب کا نام لیتے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا پرست ہیں۔ مگر جب جانچ کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے حزب کے پرستار تھے نہ کہ حقیقتاً خدا کے پرستار۔ جب بھی آدمی کا یہ حال ہو کہ اس کو صرف وہ حق نظر آئے جو اس کے اپنے مانوس گروہ کی طرف سے اس کو مل رہا ہے، وہ حتی اس کو حق دکھائی نہ دے جو اس کے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آرہا ہے تو وہ حق کا نہیں بلکہ اپنے گروہ کا پرستار ہے۔ ایسے آدمی کا شمار اللہ کے یہاں حق پرستوں میں نہیں ہوگا بلکہ باطل پرستوں میں ہوگا۔ کیوں کہ حق کے نام پر وہ جس کی پرستش کر رہا تھا وہ دراصل اس کا اپنا گروہ تھا نہ کہ فی الواقع حق و صداقت۔
خدا پرست وہ ہے جو خدا کے سوا ہر دوسری چیز سے اپنے کو اوپر اٹھا لے۔ خدا کے مقابلہ میں کوئی بھی دوسری چیز اس کے لئے عزیز تر نہ رہے۔ اس کی عقیدت و محبت کا مرکز ہر اعتبار سے صرف ایک اللہ ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues