Al-Risala · August 1980 · page 10

جب آدمی عقل کھودے

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰

جب آدمی عقل کھودے

پندرھویں صدی قبل مسیح تک مصر میں عمالقہ کی حکومت تھی جو مصر کے باہر سے آکر مصر کی حکومت پر قابض ہو گئے تھے۔ یوسف علیہ السلام اسی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد مصر میں قومی انقلاب ہوا۔ عمالقہ کی حکومت ختم ہوگئی اور ایک ملکی خاندان نے مصر کی حکومت پر قبضہ کر لیا اور اپنا لقب فرعون اختیار کیا۔ موسیٰ علیہ السلام سابق حکمراں قوم (بنی اسرائیل) سے تعلق رکھتے تھے اور فراعنہ میں سے ایک فرعون کے پاس خدا کا پیغام لے کر بھیجے گئے۔ فرعون اپنے زمانہ میں بڑے جاہ وجلال کا بادشاہ تھا۔ حضرت موسیٰ جب اس کے دربار میں آکر کھڑے ہوئے تو فرعون نے ان کو حقیر سمجھا۔ دبے ہوئے فرعون کا ایک فرد، جس کے پاس نہ شان دار کپڑے تھے اور نہ پر شکوہ سواری، نہ اس کے آس پاس دنیوی اہمیت کی اور کوئی چیز موجود تھی، اچانک بادشاہ کے دربار میں آکر کہتا ہے کہ میں تمہارے پاس خدا کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری ہنس پڑے ۔ انھوں نے حضرت موسیٰ کی بات کو مذاق سمجھا۔ ان کے لئے ناقابل فہم تھا کہ اتنی معمولی حیثیت کا آدمی خدا کا نمائندہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو اس کے دلائل کے اعتبار سے نہیں دیکھا بلکہ اس اعتبار سے دیکھا کہ اس کا پیش کرنے والا کیسا ہے ۔ اور جب انھیں نظر آیا کہ پیش کرنے والا ایک معمولی آدمی ہے تو انھوں نے ان کی بات کو، دلائل کی عظمت کے باوجود، حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔

حضرت موسیٰ کی بات ملک میں پھیلنے لگی اور بہت سے لوگ اس کے وزن کو محسوس کرنے لگے۔ اس وقت فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس کی باتوں پر دھیان دے رہے ہو۔ یہ شخص تو عجیب، الجھی ہوئی باتیں کرتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہ ہو سکا کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ دوسری طرف میرا معاملہ ہے کہ میں صاف اور سمجھ میں آنے والی بات کہتا ہوں۔ میرے برحق ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ خدا نے مجھ کو بڑائی عطا کی ہے۔ اس ملک کا اقتصادی نظام میرے حکم کے تحت چل رہا ہے ، موسیٰ اگر خدا کے نمائندے ہیں تو ”کیوں نہ ان پر سونے کے کنگن اتارے گئے۔ یا فرشتوں کا دستہ ان کے ساتھ ہوتا ، فرعون کی یہ باتیں اس حد تک کارگر ہوئیں کہ اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور قوم نے اس کا کہنا مان لیا، وہ پہلے ہی سے فاسق لوگ تھے (زخرف ۵۱)

جب بھی حق کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو اس کی زد سب سے پہلے ان لوگوں پر پڑتی ہے جو کسی چلے ہوئے مذہب کے بل پر عوامی قیادت حاصل کئے ہوں، ایسے لوگ، جب دیکھتے ہیں کہ داعی کی باتوں سے لوگ متاثر ہورہے ہیں تو وہ کچھ دلفریب باتیں کہہ کر لوگوں کے ذہن کو اس سے پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ داعی کے کھلے ہوئے دلائل کے مقابلہ میں ان کی پر فریب باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ تاہم اکثر لوگ چونکہ حق اور ناحق کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتے وہ گہرائی کے ساتھ دونوں باتوں کا موازنہ نہیں کرتے اور قائدین کی خوش نما باتوں میں آکر ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں اور حق کے داعی کو چھوڑ دیتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page