اپنی غلطی کو جانیے
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳
اپنی غلطی کو جانیے
”کچھ لوگ گویا کہ عجیب ہوتے ہیں“ ایک شخص نے کہا ”گویا کہ ان کا ایک تکیہ کلام بن جاتا ہے۔ گویا کہ وہ اس کو گویا کہ بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ گویا کہ ۔ ۔۔۔ “ مذکورہ بزرگ اسی طرح اپنی گفتگو میں ”گویا کہ “ کا لفظ بار بار دہراتے رہے جو ان کا اپنا تکیہ کلام تھا۔ وہ نہایت اطمینان کے ساتھ دوسروں پر یہ تنقید کر رہے تھے کہ وہ اپنا ایک تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور اس کو بے موقع دہراتے رہتے ہیں۔ مگر خود اپنے بارہ میں ان کو ذرا بھی یہ احساس نہ تھا کہ انھوں نے بھی اپنا ایک تکیہ کلام بنا رکھا ہے جس کو وہ اپنی گفتگو میں بلا ضرورت بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ ان کو دوسروں کی غلطی کی خبر تھی مگر اپنی غلطی سے وہ بالکل نا واقف تھے۔ یہ انسان کی عام کمزوری ہے۔ وہ دوسروں کی غلطیوں کو انتہائی باریک بینی کے ساتھ جانتا ہے۔ دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ ان کی کوتاہیوں کے چھپے ہوئے گوشوں تک کو پالیتا ہے۔ مگر جب معاملہ اپنا اور اپنے متعلقین کا ہو تو وہ ایسا بے خبر ہو جاتا ہے جیسے وہ کچھ جانتا ہی نہیں۔ مگر خدا کے یہاں جو چیز کام آئے گی وہ اپنی غلطیوں کو جاننا ہے نہ کہ دوسروں کی غلطیوں کا ماہر بننا۔ جو شخص دوسروں کی غلطیوں کو جانے مگر اپنی غلطیوں کو نہ جانے وہ صرف اللہ کے سامنے یہ حجت قائم کر رہا ہے کہ اس کو اتنی سمجھ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کو جان لے مگر اس کی سرکشی نے اس کو اندھا بہرا بنا دیا۔ آنکھ رکھتے ہوئے اس نے نہ دیکھا اور کان رکھتے ہوئے اس نے نہ سنا۔ ایسے آدمی کے لئے خدا کے یہاں سخت سزا کے سوا اور کچھ نہیں۔
انسان کے اندر اللہ نے برائی اور بھلائی کی پہچان رکھی ہے تاکہ وہ جہنم کے راستہ سے بچے اور جنت کے راستہ کا مسافر بنے۔ مگر جس آدمی کا یہ حال ہو کہ وہ خود خلاف حق باتوں میں مبتلا ہو اور دوسروں کو حق کی تلقین کرے ، اس نے اپنی پہچان کو صرف اپنے جہنمی سفر کو تیز تر کرنے میں استعمال کیا۔ کیونکہ اس قسم کی تلقین صرف ایک جرم ہے نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues