Al-Risala · August 1980 · page 26

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ہے اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور ہو تاکہ وہ اس کو فدیہ میں دے کر قیامت کے دن کے عذاب سے چھوٹ جائیں تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر وہ اس سے نکل نہ سکیں گے اور ان کے لئے ایک مستقل عذاب ہے۔ اور چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ پھر جس نے اپنے ظلم کے بعد توبہ کی اور اصلاح کرلی تو اللہ بے شک اس پر توجہ کرے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے۔ وہ جس کو چاہے سزا دے اور جس کو چاہے معاف کر دے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ۳۵-۳۴ بندے کے لئے سب سے بڑی چیز اللہ کی قربت ہے۔ یہ قربت اپنی محسوس اور کامل صورت میں تو آخرت میں حاصل ہوگی۔ تاہم کسی بندے کا عمل جب اس کو اللہ سے قریب کرتا ہے تو ایک لطیف احساس کی صورت میں ہربہ اس کو اسی دنیا میں ہونے لگتا ہے، اس قربت تک پہنچنے کا ذریعہ تقوی اور جہاد ہے۔ یعنی ڈرنے اور جدوجہد کرنے کی سطح پر اللہ کا پرستار بننا۔ آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے کو حق اور ناحق کے درمیان کھڑا ہوا پاتا ہے۔ حق کی طرف بڑھنے میں اس کی انا ٹوٹتی ہے۔ اس کی دنیوی مصلحتوں کا ڈھانچہ بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ ناحق کا طریقہ اختیار کرنے میں اس کی انا قائم رہتی ہے۔ اس کی مصلحتیں پوری طرح محفوظ دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں جو شخص خدا سے ڈرے اور تمام دوسری باتوں کو نظر انداز کر کے خدا کو پکڑے ۔ اور ہر مشکل اور ہر ناخوش گواری کو جھیل کر خدا کی طرف بڑھے تو یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتی ہے۔ اور اس قربت کا نقد تجربہ آدمی کو حسّیات کی سطح پر ایک لطیف ادراک کی صورت میں اسی وقت ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص تقوی اور جہاد کے راستہ پر چلنے کے لئے تیار نہ ہو اس نے خدا کا انکار کیا۔ وہ خدا سے دور ہو کر ایسے عذاب میں پڑ جاتا ہے جس سے وہ کسی طرح چھٹکارا نہ پا سکے گا۔

جزا کا معاملہ تمام تر خدا کے اختیار میں ہے نہ تو ایسا ہے کہ کوئی بعد کی زندگی میں اصلاح کرے تب بھی اس کے پچھلے اعمال اس سے نہ دھلیں اور نہ یہ بات ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سفارش یا مداخلت کے زور پر کسی کے انجام کو بدل سکے۔ سارا معاملہ ایک خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی کمال درجہ حکمت اور قدرت کے ساتھ سب کا فیصلہ کرے گا۔ سماجی جرائم کے لئے اسلام کی سزائیں دو خاص پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک، آدمی کے یم کی سزا۔ دوسرے یہ کہ سزا ایسی عبرت ناک ہو کہ اس کو دیکھ کر دوسرے مجرمین کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاہم مجرم اگر جرم کے بعد اپنے فعل پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کی چیزوں کو بالکل چھوڑ دے تو امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page