Al-Risala · October 1980 · page 7

خرچ سے اضافہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۷

خرچ سے اضافہ

مسٹر رام رتن کپلا (پیدائش ۱۹۱۸) نے1937 میں پند روپیہ ماہوار کی ایک ملازمت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ اب دہلی میں نرائنا انڈسٹریل ایریا میں ان کی فیکٹری ہے اور آصف علی روڈ پر بہت بڑا شوروم ہے۔ انھوں نے اپنے ابتدائی دور کا ایک واقعہ اس طرح بتایا۔

یہ ۱۹۳۹ء کی بات ہے جب کہ میں ایک میکینک کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ میں نے کافی محنت سے کام کیا اور دھیرے دھیرے ۲۵ ہزار روپئے بنک میں جمع کرلیے میں بہت خوش تھا کہ میں نے کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ راولپنڈی کے ایک بزرگ ”خواجہ صاحب“ انھیں دنوں میرے پاس آئے۔ ہمارے ان کے درمیان بہت پرانے مراسم تھے۔ میں ان کی بہت عزت کرتا تھا۔ انھوں نے مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھا۔ میں نے فخر کے ساتھ انھیں بتایا کہ میں نے ۲۵ ہزار روپیہ بچایا ہے جو بنک میں تی ہے۔ مجھے امید تھی کہ وہ مجھ شاباش دیں گے اس کے برعکس انھوں نے مجھ کو لعنت ملامت کی اور کہا کہ تم نے اپنا وقت خراب کیا، تم کو شرم آنی چاہئے کہ تمہارے پاس ۲۵ ہزار روپیہ بے کار پڑا ہوا ہے، صرف اس لئے کہ بنک کا سود ملتا رہے۔ اگر تم یہ بتاتے کہ میرے اوپر بنک کا قرض ہے تو البتہ مجھے خوشی ہوتی۔ تم فوراً بمبئی جاؤ کلکتہ جاؤ۔ وہاں جاکر کاروبار دیکھو، ایجنسی لو، روپیہ کو کام میں لاؤ۔

شری رام رتن کپلا نے بتایا کہ اس کے بعد میں ۴۷۔ ۱۹۴۵ میں بمبئی گیا۔ وہاں ریفریجریٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ایجنسیاں لیں۔ اس کے بعد تمھارا کاروبار خوب بڑھا۔ کافی پیسہ ہاتھ آیا۔ اس کے بعد میں نے بارہ رہ روپیہ ماہوار کا گیرج چھوڑ دیا اور ایک ہزار روپیہ ماہوار کرایہ پر موجودہ شوروم لیا۔ خدا نے اپنی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ یہاں خرچ کرنے سے اضافہ ہوتا ہے۔ آپ چند دانے ”خرچ“ کرتے ہیں تو کھیت اس کے بدلے میں آپ کو ہزاروں دانے لوٹاتا ہے۔ کاروبار میں آدمی روپیہ لگاتا ہے تو وہ کئی گنا زیادہ ہو کر اس کی طرف واپس آتا ہے۔ معاشرہ میں صدقات و خیرات کی صورت میں جو خرچ کیا جاتا ہے وہ بھی اس طرح اضافہ ہو کر آدمی کی طرف لوٹتا ہے کہ اس سے سماج میں باہمی اعتماد، ایک دوسرے کا لحاظ، حقوق کی ادائگی، دوسرے کے معاملہ کو اپنا معاملہ سمجھنا جیسے احساسات پرورش پاتے ہیں اور وہ بے شمار صورتوں میں خود کو دینے والے کو نفع پہنچاتے ہیں آخرت کے لئے خرچ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اگر آپ آخرت کی راہ میں خرچ کریں تو وہ دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی صورت میں آپ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ آخرت کی راہ میں خرچ سے جو اضافہ ہوتا ہے وہ سب سے بڑا اضافہ ہے، کیونکہ وہ نہ صرف مقدار میں زیادہ ہے بلکہ وہ دائمی بھی ہے، آخرت کے سوا کوئی دوسرا اضافہ دائمی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page