Al-Risala · October 1980 · page 21

اللہ کارسول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱

باتوں کا جاننے والا۔ میں نے ان سے وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی۔ اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو ان پر تو ہی نگراں تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ اگر تو ان کو سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کردے تو ہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔ اللہ کہے گا آج وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ۱۲۰ - ۱۱۶ قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں، خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میں نے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لئے معلوم شدہ بن چکی ہوںگی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال و جواب محض لوگوں کی رسوائی میں اضافہ کرنے کے لئے ہوگا۔ وہ اس لئے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑا کر کے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا یہ دنیا امتحان کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس لئے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کر کے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا اور رسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعویٰ ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page