اپنے گناہوں کو دیکھو نہ کہ دوسروں کے گناہوں کو
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۶
کرتا ہوں کہ وہ تم کو معاف کر دے (یا ھذا ان کان ما قلته في حقا فانا اسأل اللہ ان یغفر لي، وان کان ما قلته في باطلا فانا اسأل اللہ ان یغفر لك )
اپنے گناہوں کو دیکھو نہ کہ دوسروں کے گناہوں کو
حضرت ربیع بن خیثم کبھی کسی کو برا نہیں کہتے تھے۔ ایک بار انھوں نے فرمایا: لوگوں کا عجیب حال ہے۔ وہ دوسروں کے گناہوں پر تو خدا سے ڈرتے ہیں۔ لیکن خود اپنے گناہوں کی جانب سے بے خوف ہیں (طبقات ابن سعد) خدا اور رسول کی بات کے آگے جھک جانا ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ اچھے کھانے کا شوق رکھتے تھے۔ ایک روز عمدہ کھانا خوب سیر ہو کر کھایا اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ آپ کے پاس بیٹھے تھے کہ حضرت ابو حجیفہ کو ڈکار آگئی ۔ آپ نے سنا تو فرمایا: جو لوگ دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ ہیں، قیامت میں وہی سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے (اکثرھم شبعا فى الدنيا اکثرھم جوعا يوم القيامة) حضرت ابو حجیفہ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ اس کے بعد انھوں نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔
جنتی وہ ہے جس کا دل بغض سے خالی ہو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اس پہاڑی راستہ سے ایک جنتی شخص آرہا ہے۔ اتنے میں ایک مسلمان اس راستہ سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ کچھ لوگ اس سے ملے اور پوچھا کہ تم کیا عمل کرتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے بارے میں جنتی ہونے کی خبر دی ، اس نے جواب دیا : میرے پاس کوئی خاص عمل نہیں۔ البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کسی قسم کا کینہ نہیں رکھتا۔ دوسروں کی اصلاح کرنا اور اپنی اصلاح قبول کرنے کے لئے تیار رہنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: لوگو، تمھارا معاملہ میرے سپرد کیا گیا ہے حالاں کہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ میرے نزدیک کمزور آدمی تم میں سب سے زیادہ طاقت ور ہے جب تک کہ میں اس کا حق اس کو نہ دلوا دوں۔ اور میرے نزدیک طاقت ور آدمی تم میں سب سے زیادہ کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کرلوں۔ لوگو، میں صرف تمھارے ایک آدمی کی طرح ہوں ۔ جب تم مجھ کو دیکھو کہ میں سیدھی راہ پر ہوں تو میری پیروی کرو اور اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھ کو سیدھا کر دو ( یا ایھا الناس اني قد وليت امركم ولست بخير منكم وان اقواکم عندى الضعيف حتى آخذ له بحقه وان اضعفكم عندى القوی حتی آخذ منه الحق ۔ یا ایھا الناس ما انا الا کاحد كم فاذا رأيتموني قد استقمت فاتبعوني وان زغت فقومونی)
عمل کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی کسی کو نقصان نہ پہنچائے یحییٰ بن معاذ رازی نے کہا: مسلمان بھائی کو اگر تم فائدہ نہ پہنچا سکو تو اس کو نقصان بھی نہ پہنچاؤ (وإن لم تنفعه فلا تضره )
‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues