Al-Risala · November 1980 · page 8

حکمران کے مقابلہ میں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۸

ان الفاظ میں نقل کیا ہے : ابو سعید خدری رض کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو ہاتھ سے روک دے ۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے اس کو برا کہے۔ اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے اس کو برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ( من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فان لم يستطع فبلسانه، وان لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الایمان ) میں نے کہا کہ اس حدیث میں یہ کہاں ہے کہ ظالم حکمران کو اقتدار سے بے دخل کر دو۔ یہ حدیث تو سادہ طور پر مسلم معاشرہ کے اندر افراد کی عمومی ذمہ داری کو بتاتی ہے۔ مسلم معاشرہ میں ہر مسلمان کو اس طرح رہنا چاہئے کہ جب وہ اپنے کسی بھائی کو برائی کرتے دیکھے تو اس کو بقدر استطاعت روکے ۔ اس کا کسی قسم کی انقلابی سیاست سے کیا تعلق ۔

روزانہ کا مشاہدہ ہے کہ جب ایک آدمی کو کسی آدمی سے شکایت ہو جاتی ہے ، جب کسی کا مفاد دوسرے سے ٹکراتا ہے ، جب کسی کے لئے کسی کے مقابلہ میں " انا " کا سوال پیدا ہو جاتا ہے تو آدمی اس وقت ظلم اور بے انصافی پر اتر آتا ہے ۔ طاقت ور پڑوسی کمزور پڑوسی کی تخریب کے منصوبے بناتا ہے ، صاحب مکان اپنے کرایہ دار کو خانہ بدر کرنے کی سازشیں کرتا ہے۔ مالک اپنے ملازم کی معاشیات کو برباد کر دینا چاہتا ہے ۔ جائداد والا ایک وارث کو اس کا حق دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ ایک ادارہ اپنے کارکن کو ذلیل کرکے نکال دیتا ہے۔ ایک شخص اپنے دوست اور رشتہ دار کا دشمن بن جاتا ہے۔ ایک لیڈر اپنے اوپر تنقید کرنے والے کو رسوا کر دینا چاہتا ہے۔ ایک کمانے والا اپنے نہ کمانے والے رشتہ دار کو ذلیل کرتا ہے ۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے اور ہر بستی اور ہر محلہ میں اس قسم کے واقعات ہر روز دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہی وہ سماجی برائی ہے جس کے خلاف سرگرم ہونے کی مذکورہ بالا حدیث میں تلقین کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی دیکھے کہ اس کے قریب ایک آدمی برائی کر رہا ہے یا کسی بندہ خدا کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے تو اس معاملہ میں وہ غیر جانب دار نہ ہو جائے ۔ بلکہ بقدر استطاعت اس میں اپنے کو شریک کرے ۔ اس کو اس وقت تک چین نہ آئے جب تک وہ اپنے بھائی کے خلاف ہونے والی برائی کو ختم ہوتا ہوا نہ دیکھ لے۔ سیاسی تصادم سے بچنے کا مطلب ظلم سے سمجھوتہ نہیں ہے بلکہ اپنی قوتوں کو زیادہ نتیجہ خیز کام میں لگانا ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کو خدا پرستی اور انصاف پر قائم کرنا ، لوگوں کو موت اور آخرت کے مسئلہ سے ہوشیار کرنا ، تعمیری میدان میں اپنے کو مستحکم بنانا ، اپنے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کرنا ، یہ وہ کام ہیں جن کا کرنا ہر حال میں ممکن رہتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ لوگ اپنے عمل کا آغاز یہاں سے کریں۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ جو نہیں ملنے والا ہے اس کو پانے کی کوشش میں وہ بھی ہاتھ سے چلا جائے جو بروقت مل سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues

Printed page