Al-Risala · November 1980 · page 3

بے برداشت نہ ہو

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳

بے برداشت نہ ہو

قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ کی آخری آیت میں ارشاد ہوا پس تم صبر کرو ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ اور تم کو بے برداشت نہ کر دیں وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے (فا صبر ان وعد اللہ حق فلا يستخففتك الذين لا يوقنون ، روم)

زمین سے ایک پھل دار درخت کا پودا اگتا ہے۔ قانون قدرت کے مطابق اس میں دسویں سال پھل لگنے والا ہے۔ اب اگر کچھ لوگ جلد بازی کریں اور پودا نکلنے کے چند ماہ بعد ہی اس کا پھل لینا چاہیں تو وہ اپنی جلد باز کارروائیوں سے درخت کو برباد کر دیں گے اور اس کا قدرتی امکان بروئے کار آنے سے رہ جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ سماجی زندگی میں ظاہر ہونے والے واقعات کا بھی ہے۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اہل حق کو عزت اور غلبہ دے گا۔ مگر درخت کی طرح اس غلبہ کے ظہور کا بھی ایک قانون ہے۔ اگر اس قانون کی رعایت نہ کی جائے اور وقت سے پہلے اس کو پانے کی خواہش کی جائے تو یہ ایسی نادانی ہوگی جس سے غلبہ تو نہیں ملے گا البتہ اس کے امکانات برباد ہو کر رہ جائیں گے ۔

خدا کی طرف سے جو غلبہ کا وعدہ ہے وہ اس بنیاد پر ہے کہ اہل حق اپنے حصہ کا کام کر دیں ۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے دین پر قائم کریں ، وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ وہ ممکن دائروں میں اپنے آپ کو مستحکم بنائیں ۔ اسی کے ساتھ وہ فریق ثانی کو حق کی دعوت دیں ۔ وہ دعوت کے تمام حکیمانہ تقاضوں کا اہتمام کرتے ہوئے اس کو اتمام حجت کے مرحلہ تک پہنچائیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا کے یہاں کسی گروہ کا یہ استحقاق ثابت کرتی ہیں کہ وہ ان کو غالب کرے اور ان کے مقابلہ میں ان کے حریف کو مغلوب کر دے۔ جب اہل حق کے درمیان یہ تمام کام جاری ہوتے ہیں تو فریق ثانی کی طرف سے بار بار اشتعال انگیزیاں کی جاتی ہیں ۔ ذہنی اور عملی پہلوؤں سے ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو اہل حق کو بھڑکا دینے والی ہوں۔ یہ بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر اہل حق کی شانتی بھنگ ہو جائے اور وہ فریق ثانی کے چھیڑے ہوئے فتنوں میں اپنے آپ کو الجھا دیں تو اصل کام رک جاتا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان دوسرے غیر متعلق امور پر لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی لڑائی کا آخری فیصلہ ہمیشہ اہل حق کے خلاف ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان کا غلبہ خدا کی مدد سے ہوتا ہے اور انھوں نے اصل کام کو نامکمل حالت میں چھوڑ کر غلبہ کا استحقاق کھو دیا۔ انھوں نے " بے برداشت " ہو کر خدا کی نافرمانی کی اور خدا کی نافرمانی کرنے والوں کو کبھی خدا کی نصرت نہیں پہنچتی۔ بے برداشت ہونے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ مثلاً اعلیٰ مقصد کی خاطر چھوٹے نقصانات کو برداشت

‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues

Printed page