قرآن وحدیث کی روشنی میں
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵
قرآن وحدیث کی روشنی میں
اب دیکھئے کہ اس معاملہ میں قرآن و حدیث کی رہنمائی کیا ہے۔ قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ خدا ان پر غضب ناک ہوا اور ان پر دنیوی سزائیں بھیجیں (ایسا اس لئے ہوا کہ وہ اپنے درمیان برائی کرنے والے کو برائی سے نہ روکتے تھے (کانوا لا یتناہون عن منکر فعلوہ ، مائدہ ۷۹) حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔ ایک حدیث ہم یہاں نقل کرتے ہیں:
ان الناس إذا ر ا و الظالم فلم يأخذ و اعلىٰ لوگ جب ظلم کرنے والے کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ يَدَيْهِ اَوْشَكَ اَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابِ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان پر اپنی سزا کو عام منہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی)
کردے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ”اجتماعی فساد“ کا سبب ہمیشہ ”انفرادی فساد“ ہوتا ہے۔ اس لئے اجتماعی فساد کو رد کرنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ انفرادی فساد کو رد کیا جائے۔ اس ہدایت کے مطابق مسلم معاشرہ کو اتنا زندہ اور چوکنارہنا چاہئے کہ اس کا کوئی آدمی اگر کوئی شرارت کرے تو فوراً اس پاس کے لوگ جاگ اٹھیں اور ابتدایہی میں شریر کا ہاتھ پکڑ لیں۔ معاشرہ کا کوئی فرد اگر کسی آدمی کے ساتھ برائی کرے تو بقیہ لوگ غیر جانب دار بن کر نہ رہ جائیں بلکہ وہ فوراً موقع پر پہنچیں اور برائی کرنے والے آدمی اور اس کی برائی کے درمیان حائل ہو جائیں۔ اگر وہ اس ابتدائی موقع پر بے تعلق ہو کر بیٹھ جائیں گے تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ ایک آدمی کی شرارت ایسے عمومی فتنے بر پا کرے گی جس کی لپیٹ میں پوری قوم آجائے گی۔
مذکورہ اسلامی ہدایت براہ راست طور پر آج کل کے فسادات پر چسپاں ہوئی ہے مسلمان اپنی بڑھی ہوئی جذباتیت کی وجہ سے اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ ایک معمولی بات کو برداشت نہیں کر پاتے اور دوسرے سے لڑجاتے ہیں۔ یہ ”دوسرا“ اگر خود اپنی قوم کا آدمی ہے تو اس کا نقصان اکثر ایک آدمی یا ایک خاندان تک محدود رہتا ہے۔ لیکن یہ دوسرا آدمی اگر دوسرے فرقہ سے تعلق رکھتا ہو تو ایک مسلمان کی جذباتی کارروائی فوراً پوری قوم کو منتقل کردیتی ہے۔ موقع پرست لیڈر اشتعال انگیز تقریریں کر کے اس کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اور اس کے بعد ایسا فساد برپا ہوتا ہے جو پوری کی پوری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ علی گڑھ اور مراد آباد کا مذکورہ واقعہ اور اسی قسم کے دوسرے واقعات اس کا عملی ثبوت ہیں۔
چونکہ فسادات اکثر اُن مقامات پر ہوتے ہیں جہاں مسلمان مسلمان اقتصادی اعتبار سے نسبتاً بہتر ہیں۔ اس لئے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ مسلمانوں کی اقتصادیات کو برباد کرنے کی منظم سازش کے تحت ہورہا ہے۔ حالانکہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جن مقامات پر بہتر حیثیت میں ہیں وہیں وہ جذباتی حرکتیں بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کسی آدمی کو پر جوش کارروائی کرنے کے لئے ہمیشہ سماجی پشت پناہی درکار ہوتی ہے اور یہ سماجی پشت پناہی ان مقامات کے مسلمانوں کو بآسانی مل جاتی ہے جہاں مسلمان مسلمان اقتصادی اعتبار سے بہتر ہوں۔ مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے اور اختلافات بھی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues