اللہ کی راہ میں خرچ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
اللہ کی راہ میں خرچ
آدمی کے پاس جو کچھ ہے خدا کا دیا ہوا ہے۔ آدمی کی زندگی اور اس کا اثاثہ سب کچھ خدا کی بخشش ہے۔ اس بخشش کا شکر یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ آدمی کو دیا ہے وہ اس کو اللہ کے قدموں میں ڈال دے۔ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا اللہ کے لئے اسی حوالگی کی ایک علامت ہے ۔
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اسی لئے کماتا ہے کہ خدا نے اس کو ہاتھ اور پاؤں دئے ہیں جن سے وہ عمل کرے ، اس کو آنکھ اور زبان دی ہے جس سے وہ دیکھے اور بولے۔ اس کو دماغ دیا ہے جس سے وہ سوچے اور منصوبہ بنائے ۔ اسی کے ساتھ خدا نے آدمی کو ایک ایسی دنیا میں رکھا جو پوری طرح اس کے تابع ہے۔ دنیا کی ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ انسان اس کو جس طرح چاہے اپنے کام میں لائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آدمی جسم و دماغ کی تمام طاقتیں رکھتے ہوئے بھی دنیا سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے گا۔ اگر گیہوں کا دانہ فصل کی صورت میں نہ اگے بلکہ پتھر کے ٹکڑے کی طرح زمین میں پڑا رہے تو انسان کے لئے زمین سے غلہ حاصل کرنا نا ممکن ہو جائے ۔ فطرت کی طاقتیں اگر اپنا مقررہ عمل ظاہر نہ کریں تو نہ بجلی پیدا ہو اور نہ کوئی سواری حرکت کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان جو کمائی کرتا ہے وہ براہِ راست خدا کا احسان ہوتی ہے۔ اس احسان کا بدلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کو اللہ کے دین کی راہ میں خرچ کرے۔ وہ اس سے اللہ کے کمزور بندوں کی مدد کرے ۔ خدا کی دی ہوئی دولت کو وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقوں میں لگائے۔ اللہ کی راہ کا خرچ وہ جو صرف اللہ کے لئے ہو، نہ کہ شہرت، یا عزت، یا دلداری کے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues