Al-Risala · February 1980 · page 6

پہلے شعور پیدا کیجئے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۶

پہلے شعور پیدا کیجئے

مسجد کا موذن فجر سے کچھ پہلے اٹھا۔ وہ کسی ضرورت سے مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کھول رہا ہے۔ چوں کہ ابھی فضا میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اور اتنے سویرے دکان کھولنا ایک غیرمعمولی بات تھی، وہ ٹھہر کر دیکھنے لگا۔ ”یہ آدمی اندھیرے میں دکان کے اندر داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے کیا کام کرے گا“، اچانک یہ یہ سوال اس کے ذہن میں آیا۔ ایک لمحہ سوچنے کے بعد اس کے دل نے کہا کہ یہ شخص سب سے پہلے دکان کی لائٹ جلائے گا۔ کیوں کہ جب تک دکان کے اندر اندھیرا ہے وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اب وہ اپنے اندازہ کی تصدیق یا تردید جاننے کے لئے وہاں ٹھہر کر دکان دار کو دیکھنے لگا۔ موذن کا اندازہ صحیح نکلا۔ دکان کا دروازہ کھولتے ہی دکان دار کا ہاتھ سب سے پہلے بجلی کے بٹن پر پہنچا۔ معا بعد دکان کے اندر روشنی ہو گئی ۔ اب دکان دار اس کے اندر داخل ہو کر اپنا کام کرنے لگا۔ اسی مثال سے ہم دین وملت کے معاملے کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ دینی یا ملی کام کرنے کے لئے بھی سب سے پہلے ”روشنی“ جلانے کی ضرورت ہے یعنی شعور کی بیداری۔ اندھیرے مکان یا دکان کو اجالے میں لانے کے لئے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح ملت کے اندر کوئی حقیقی اور مفید کام وجود میں لانے کے لئے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ملت کے افراد کو ذہنی حیثیت سے باشعور بنایا جائے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بیدار کیا جائے۔ افراد کے اندر شعور کی روشنی جلائے بغیر کوئی حقیقی کام نہیں کیا جا سکتا۔

آغاز سے پہلے اختتام کا اندازہ کر لیجئے

حاجیوں کا ایک قافلہ غارِ حرا کو دیکھنے کے لئے روانہ ہوا۔ غار حرا جس پہاڑ کے اوپر واقع ہے وہاں تک سڑک جاتی ہے۔ آدمی پہاڑ تک سواری سے جاتا ہے اور پھر وہاں سے پیدل پہاڑ پر چڑھتا ہے۔ قافلہ کے لوگ جب پہاڑ پر چڑھنے لگے تو کچھ لوگوں نے احترام و تقدس کے جذبہ کے تحت سڑک کے پاس اپنے چپل اتار دئے۔ جاتے وقت صبح کا وقت تھا اس لئے ننگے پاؤں اوپر جانے میں کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔ مگر جب وہ لوگ واپس لوٹے تو دوپہر ہو چکی تھی۔ پہاڑی کے سرخ پتھر تپنے لگے تھے۔ بغیر چپل والے لوگ سخت تکلیف کے ساتھ اس حال میں اترے کہ ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ کئی دن تک پریشان رہے۔

سفر خواہ پہاڑ کا ہو یا زندگی کا، ہر ایک کی کامیابی کا ایک ہی اصول ہے۔ اور وہ یہ کہ سفر کے آغاز میں سفر کے اختتام کا پورا اندازہ کر لیا جائے ۔ جو شخص سفر کے شروع میں سفر کے آخری حالات کا اندازہ نہ کر سکے اس کے حصہ میں اکثر ایسی مشکلات آتی ہیں جو اس کے سفر کے مقصد کو بے معنی بنا دیتی ہیں ۔ خدا کا یہ قانون اتنا بے لاگ ہے کہ ایک مخلص آدمی بھی اس قسم کی غلطی کرنے کے بعد اس کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ اچھی نیت سے ایک ایسا اقدام کر بیٹھے جس کے عواقب پر اس نے غور نہ کیا ہو تو اس دنیا میں اس کے برے نتائج سے وہ بھی اسی طرح دوچار ہو گا جس طرح ایک بدنیّت شخص اس قسم کی غلطی کر کے دوچار ہوتا ہے۔ کسی کا اخلاص اس کی غلطی کے خلاف اس کا محافظ نہیں بن سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page